ڈائری
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
کر رہا تھا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے خود بھی دعوتی کام نہیں، اور جو لوگ خود اسلام کے دائرہ میں آئے ان کو بھی وہ دعوتی کام میں استعمال نہ کر سکے۔ ۱۵ جنوری ۱۹۸۴ ۱۹ اپریل ۱۹۷۵ کو ہندوستان نے اپنا پہلا سٹلائٹ (آریہ بھٹ) چھوڑا۔ اسپیس کمیشن کے چیر مین پر وفیسر ایس دھون سے پوچھا گیا کہ کیا خلائی ٹکنالوجی ایک ایسا تعیش ہے جس کا ہم تحمل نہیں کر سکتے:۔ Is space technology a luxury we can't afford? پروفیسر دھون نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم خلاء میں صرف اس لئے جاتے ہیں تاکہ ہم دوبارہ زمین پر واپس آسکیں : We go into space only to come back to earth. Illustrated Weekly of India, May 4, 1975 انسان اپنے عمل کی توجیہ (Justification) کے لئے ہمیشہ خوبصورت الفاظ پا لیتا ہے۔ ۱۶ جنوری ۱۹۸۴ ایک بڑے مسلمان عالم نے سیرت پر ایک مقالہ لکھا ہے۔ اس میں انھوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صفات کمال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے : کوئی لائے تو ایسا پیغمبر کوئی دکھائے تو ایسا بول مذکورہ عالم کے یہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے فرزدق کا یہ شعر یاد آگیا : أولئك آبائي فجئني بمثلهم (یہ میرے آبا ء ہیں پھر تم ان کے جیسا میرے پاس لے آؤ) مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کو اپنا قومی ہیرو بنا لیا ہے۔ انھوں نے آپ کو قومی اکابر کا درجہ دے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کے معاملہ میں مسلمانوں کی بولی وہی ہو گئی ہے جو فرزدق کی اپنے قوی بڑوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader