ڈائری
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بارہ میں تھی۔ اگر مسلمان یہ سمجھتے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے آنے والا تمام انسانی کارنامہ تھا تو ان کی زبان سے ہرگز ایسے الفاظ نہ نکلتے۔ جدید دنیا میں آزادی کو خیر اعلیٰ تسلیم کیا گیا ہے۔ جدید مذہب کے نزدیک کوئی ایسا اقدام سراسر نا جائز ہے جس سے انسان کی آزادی چھنتی ہو۔ سگریٹ کی صنعت اس کی ایک مثال ہے۔ تمام ڈاکٹر اور علمائے صحت متفقہ طور پر سگریٹ کو صحت کے لئے سخت مضر بتاتے ہیں۔ اس کے باوجود اب تک سگریٹ کو بند نہ کیا جا سکا کیوں کہ ایسا کرنا انسانی آزادی کے خلاف ہوگا۔ امریکہ میں اس آزادی عمل کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ ۱۹۷۲ء میں وہاں کی چھ سگریٹ ساز فرموں سے ایک معاہدہہ لیا گیا۔ یہ فرمیں امریکہ میں سگریٹ کا ۹۹ فی صد حصہ بناتی ہیں۔ تحریری معاہدہ جو لیا گیا وہ یہ تھا کہ کمپنیاں ہر سگریٹ کے اشتہار میں نمایاں طور پر یہ الفاظ لکھیں گی : Cigarette smoking is injurious to your health. (سگریٹ پینا آپ کی صحت کے لئے خطر ناک ہے) یعنی سگریٹ بھی جاری رہا اور اسی کے ساتھ یہ اعلان بھی۔ اب اسی قسم کے قوانین دوسرے ملکوں میں بھی بنائے گئے ہیں۔ آزادی بلاشبہ اچھی چیز ہے، مگر جب آزادی بے قید چھوٹ کے ہم معنی بن جائے تو تو وہ اپنی انادیت کھو دیتی ہے۔ ۱۸ جنوری ۱۹۸۳ء جس زمانہ میں میں جماعت اسلامی سے وابستہ تھا اور اس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن تھا، اکثر بڑے اجتماعات میں مجھے کوئی تربیتی مقالہ پڑھنے کے لئے کہا جاتا تھا۔ "مومن کی تصویر" "قرآن کا مطلوب انسان" وغیرہ ایسے ہی مقالات ہیں جو میں نے جماعت اسلامی کے اجتماعات میں پڑھے۔ ان مقالات میں سے ہر مقالہ میں نے اس طرح لکھا تھا کہ پہلے میں نے پورا قرآن بغور پڑھا۔ پورے قرآن کو پڑھ کر اپنا ذہن بنایا کہ اس مقالہ میں مجھے کیا بات کہنا چاہئے۔ اس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader