ڈائری
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری طرف ایسی بھی حدیثیں ہیں جن میں واضح لفظوں میں کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً مسلم اور تر مندی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ (نہی عن الشرب قائماً)، اس مضمون کی روایتیں مختلف کتب حدیث میں الفاظ کے فرق کے ساتھ آئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے: لا یشربن احدکم قائماً۔ اس اختلاف کی توجیہہ و تطبیق میں بڑی بڑی بحثیں کی گئی ہیں۔ کچھ لوگوں نے ایک نوعیت کی حدیث کی تضعیف کر کے دوسری نوعیت کی حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ کسی نے ایک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار دیا ہے۔ امام نووی کے ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول قرار دیا ہے، اور رسول اللہ اور صحابہ کرام کے کھڑے ہو کر پانی پینے کو جواز کے درجہ میں رکھا ہے۔ مگر میرے نزدیک ان میں سے کوئی توجیہہ بھی درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ فرق حالات کی بنا پر ہے۔ نارمل حالات میں ایک شخص خواہ بیٹھ کر پانی پئے یا کھڑے ہو کر ، اس سے کوئی ہرج واقع نہیں ہوتا۔ مگر ایک شخص مثلاً بھاگا ہوا چلا آرہا ہے۔ وہ آتا ہے اور ہانپتے ہوئے کہتا ہے کہ پیاس لگ رہی ہے، پانی لاؤ۔ اب اس کے سامنے پانی لایا جاتا ہے۔ وہ کھڑے کھڑے وہیں پینے لگتا ہے۔ تو ایسے شخص کے بارہ میں یہی کہا جائے گا کہ بیٹھ کر پانی پیو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب دو قسم کا حکم ہے تو لازماً ایک مطلوب ہو گا اور دوسرا غیر مطلوب۔ حالانکہ یہ مغروضہ غلط ہے۔ یقیناً بعض اوقات اس بنا پر بھی فرق ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیک وقت دونوں حکم مطلوب ہوتے ہیں، کوئی حکم ایک قسم کے حالات میں، اور کوئی حکم دوسرے قسم کے حالات میں۔ ۳۱ جنوری ۱۹۸۲ اور نگ زیب عالمگیر کا زمانہ بڑا عجیب زمانہ ہے۔ ایک طرف اس کی صورت میں ملک کو ایک ایسا بادشاہ حاصل تھا جس کی سادگی، اخلاص اور تقویٰ پر سب لوگوں کا اتفاق ہے۔ دوسری طرف اس کو حکومت کے لئے نہایت طویل وقفہ ملتا ہے جس میں وہ یہ کامیابی حاصل کرتا ہے کہ پورے ملک میں شرعی قانون نافذ کر دیتا ہے۔ ملک بھر کے علما کو جمع کر کے فتاویٰ عالمگیری مرتب کراتا ہے، وغیرہ وغیرہ مگر اسی اور نگ کے زمانہ میں اخلاقی زوال کی مثالیں بھی انتہا درجہ پر نظر آتی ہیں۔ اورنگ زیب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader