Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

پورے قرآن کو پڑھ کر جوڑ بناتا تھا اس کو میں دوسری معلومات سے مدلل کر کے اپنے مقالہ میں پیش کرتا تھا۔ یہ میرے مزاج کی وجہ سے تھا جو پیدائشی طور پر میرے اندر موجود ہے۔ مجھے کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں پیدائشی سائنس داں (born scientist) ہوں۔ سائنس داں کا خاص مزاج حقیقت واقعہ سے مطابقت کرنا ہوتا ہے اور یہ مزاج میرے اندر بچپن سے ہے۔ مذکورہ عمل بھی میرے اسی ذہن کی وجہ سے ہوا۔ حقیقت واقعہ سے مطابقت کا مزاج مجھ سے تقاضا کرتا ہے کہ میں وہی کہوں جو اصل حقیقت کے عین مطابق ہو۔ اب چوں کہ اصل حقیقت وہ ہے جو قرآن میں ہے۔ اس لئے میں دل سے چاہتا تھا کہ اپنے مقالہ یا تقریر میں جو بات پیش کروں وہ قرآن سے ٹکرانے والی نہ ہو، وہ وہی ہو جو قرآن میں ہے۔ میرا یہ مزاج اتنا بڑھا ہوا تھا کہ میں مقالہ یا تقریر کے موقع پر از سر نو قرآن پڑھتا تھا، حالاں کہ اس سے پہلے میں بار بار اس کو پڑھ چکا ہوتا تھا۔ ۱۹ جنوری ۱۹۸۳ کسی چیز کا کھونا وہی شخص برداشت کرتا ہے جس کے پاس اس کے بعد بھی اس سے بڑی چیز موجود ہو۔ جو آدمی کھونے کے بعد خالی ہو جائے وہ کبھی کھونے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک شخص کی جیب میں پچاس ہزار روپے کے نوٹ بھرے ہوئے ہوں، اس کا اگر ایک روپیہ کہیں گر جائے تو وہ اس کی پروا نہیں کرے گا۔ مگر جس شخص کا کل اثاثہ ایک روپیہ ہو اس کا ایک روپیہ اگر کھو جائے تو وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے لڑتے رہتے ہیں۔ اس طرح وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان کے پاس کوئی بڑی چیز نہیں۔ اگر وہ کوئی بڑی چیز پائے ہوئے ہوتے تو ہرگز وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے لڑائی نہ کرتے۔ كتب رجل الى حكيم يقول : لم تبخل على الناس بالكلام . فقال الحكيم التقال القوم طبقة دونو الم الذين يبلسان لسان اهل احدى بنو مالك

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page