Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

ممنانتكلم، لا انتكلم اكثر مما نسمع ( العربی دسمبر ۱۹۸۵ صفحہ ۵۵) ایک شخص نے ایک دانش مند آدمی کو خط لکھا کہ آپ لوگوں سے بولنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ دانش مند نے جواب دیا: خالق نے ہمارے لئے دو کان پیدا کئے اور ایک زبان پیدا کی۔ تاکہ ہم اس سے زیادہ سنیں، جتنا کہ ہم بولتے ہیں۔ نہ یہ کہ ہم اس سے زیادہ بولیں جتنا کہ ہم سنتے ہیں۔ اگر لوگ اسی ایک بات کو پکڑ لیں تو دنیا کے آدھے جھگڑے ختم ہو جائیں۔ ۲۱ جنوری ۱۹۸۴ جاپانی صنعت کا مطالعہ کرنے والے ایک شخص نے لکھا ہے: Their decisions are highly effective. Yet they violate every rule in the book. جاپانیوں کے فیصلے انتہائی پر اثر ہوتے ہیں۔ مگر وہ کتاب میں لکھے ہوئے ہر قاعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ زندگی اجتہاد کا امتحان ہے۔ زندگی میں ہمیشہ مجتہدانہ ذہن کامیاب ہوتے ہیں۔ تقلیدی ذہن رکھنے والوں کے لئے اس دنیا میں اس کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں کہ وہ تمام قوموں سے پیچھے چلے جائیں اور پھر دوسروں کی شکایت کرتے رہیں۔ مقلد کیوں تقلید کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے "بڑوں" سے ملنے والی چیز کو سب سے اعلیٰ سمجھ لیتا ہے۔ اب جب مقابلہ کی اس دنیا میں اسے شکست ہوتی ہے تو نفسیاتی طور پر وہ اپنے آپ کو غلط سمجھ نہیں پاتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا الزام دوسروں کے سر ڈال دیتا ہے۔ مقلد آدمی، ہمیشہ دوسروں پر الزام دے گا اور مجتہد آدمی خود الزام قبول کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مجتہد آدمی غلطی کر کے بھی دوبارہ صحیح راہ پالیتا ہے، جب کہ مقلد کو کبھی اس کی توثیق حاصل نہیں ہوتی۔ لال کنواں (دہلی) میں ایک پر انا : پیپل کا درخت ہے۔ یہاں ہند و تقسیم ہند کے پہلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page