ڈائری
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
سے پوجا کی رسمیں ادا کرتے رہے ہیں۔ اب پچھلے سال انھوں نے یہاں گھنٹہ لٹکا دیا اور اپنے پو جا کے اوقات میں گھنٹہ بجانے لگے۔ اس سے مسلمانوں کی نماز میں خلل پڑنے لگا۔ چنانچہ حسب معمول مسلمانوں نے شور و غل کیا۔ جلوس نکالا۔ حتیٰ کہ پولیس نے گولی چلائی۔ اس کے بعد سے پیپل کے پاس ایک مستقل پولیس چوکی ہٹا دی گئی۔ شور و غل کرنے والے مسلمان خاموش ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے۔ اس پیپل کے قریب ایک مسجد ہے۔ یہی وہ قریبی مسجد ہے جس کے نمازیوں کی نماز ”خراب“ ہو سکتی تھی۔ اسی زمانہ میں ایک روز میں نے اس مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ فجر کی جماعت میں صرف تین آدمی تھے۔ ایک امام اور دو مقتدی۔ یہ تینوں اتنے بوڑھے ہو چکے تھے کہ عجب نہیں کہ کبیر السن ہونے کی وجہ سے وہ کم سنتے ہوں۔ نماز خراب ہونے پر جلوس نکالنے والے سب کے سب نوجوان تھے۔ جلوس کے دن نوجوانوں سے سڑک بھر گئی تھی ۔ مگر نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں صرف تین بوڑھے موجود تھے۔ گویا نماز نہ پڑھنے والوں کی نماز خراب ہو رہی تھی۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جن کی نمازیں خراب ہو رہی ہوں حالانکہ وہ مسجد میں نماز کے لئے آتے ہی نہ ہوں ۔۔ یہی وہ سیاست ہے جس نے ہندوستانی مسلمانوں کے سارے معاملہ کو برباد کر رکھا ہے۔ ۲۳ جنوری ۱۹۸۴ء ایک صاحب تھے۔ ان کا نام شفیع اللہ تھا۔ وہ تعلیم یافتہ نہ تھے۔ وہ اکثر منت ماننے کے لئے مزاروں پر جایا کرتے تھے۔ ایک بار وہ کچھوچھہ یا اجمیر سے واپس آئے تو بستی کی مسجد کے امام صاحب نے ان پر تنقید کی اور کہا کہ آپ غیر اللہ سے مدد مانگتے جاتے ہیں، یہ شرک ہے، شفیع اللہ نے امام صاحب کی تنقید سنی تو بگڑ کر کہا: ہم کون زندہ ہے ، ہم تو جائیں گے۔ یہی حال موجودہ زمانہ میں ہمارے لیڈروں کا ہے۔ وہ جذباتی سیاست چلاتے ہیں، وہ قومی نفرت اور تعصب کی بنیاد پر تحریکیں اٹھاتے ہیں۔ آپ کتنا ہی اس کے خلاف دلیل دیجئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader