Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو واقعات سے اور قرآن و حدیث سے بالکل باطل ثابت کر دیجئے ۔ مگر وہ اپنی جھوٹی سیاست پر قائم رہیں گے، وہ کسی حال میں اس کو چھوڑنے والے نہیں۔ اس کی وجہ وہی نفسیات ہے جو مذکورہ شیخ اللہ کے یہاں نظر آتی ہے ۔ یہ لیڈر اتنے جاہل نہیں کہ وہ مذکورہ الفاظ بولیں ۔ مگر وہ نہ زبان حال سے یہی کہہ رہے ہیں : ہم کو فائدہ ہے ، ہم تو اس کو کریں گے ۔ ہمارے لیڈر جو جھوٹی سیاست چلا رہے ہیں یہی ان کا کل سرمایہ ہے۔ وہ اسی کے اوپر کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی ساری مقبولیت اور ترقی اسی سے وابستہ ہے۔ اگر وہ اس کو چھوڑ دیں تو ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اوپر دلیل کام نہیں کرتی۔ بالکل بے دلیل ہو کر بھی وہ اپنے طریقہ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ ۲۲ جنوری ۱۹۸۴ "کتابیں صرف دو ہیں : قرآن اور کائنات " بظاہر یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے لیکن اگر لفظ بدل دیا جائے تو ہر آدمی اس سے اتفاق کرے گا۔ یعنی اگر اسی کو یوں کہا جائے کہ علم صرف دو ہیں : الہامی علم اور سائنسی علم تو ہر آدمی کو یہ ایک سیدھی سی بات معلوم ہوگی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی بات کو سمجھنے کے لئے لفظ کو بدلنا پڑتا ہے۔ ایک شخص جس کی مادری زبان اردو ہو وہ اردو میں سوچتا ہو اور پھر تعلیم گاہ میں انگریزی زبان پڑھے تو اس کا ذہن انگریزی الفاظ کو ترجمہ کر کے سمجھے گا۔ مثلاً (ocean) کا لفظ بولا جائے تو وہ اس کو صرف اسی وقت سمجھ پائے گا جب کہ وہ اس کو اپنے ذہن میں " سمندر " کے لفظ میں تبدیل کرلے۔ یہی حال معانی کا ہے۔ معانی کا اظہار مختلف انداز میں کیا جاتا ہے مگر ہر آدمی کا ذہنی ڈھانچہ الگ الگ ہوتا ہے۔ ایک معنوی حقیقت کسی آدمی کی ذہنی پکڑ میں صرف اس وقت آتی ہے جب کہ وہ اس کے اپنے ذہنی ڈھانچہ کے مطابق تبدیل کردی گئی ہو۔ اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ شرح اور تفسیر کا مطلب کیا ہے۔ شرح اور تفسیر کوئی نئی بات کہنے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ یہ ہے کہ لفظ کو بدل دیا جائے ۔ کوئی بات جو ایک قسم کے لفظوں میں کہی گئی ہے اس کو دوسرے قسم کے لفظوں میں بیان کر دیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page