ڈائری
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
میری میز پر ایک رجسٹر تھا۔ میں نے اس کو بنانا چاہا۔ ایک صورت یہ تھی کہ میں اپنی کرسی سے اٹھتا اور رجسٹر کو لے جاکر دوسری میز پر رکھ دیتا۔ گرمیں نے چاہا کہ میں اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے رجسٹر کو دوسری میز پر پہنچادوں۔ چنانچہ میں نے رجسٹر کو ہاتھ میں لے کر اسے دوسری میز کی طرف پھینکا۔ یہ دوسری میز چھوٹی تھی رجسٹر صحیح رخ سے اس کے اوپر نہیں پہنچا۔ وہ پھسل کر زمین پر گر گیا۔ اچانک مجھے خیال آیا" ہم ایک رجسٹر کو پھینک نہیں سکتے اور خدا ان گنت ستاروں اور سیاروں کو خلا میں پھینکے ہوئے ہے۔ ہمارا پھینکنا ہوار جسٹر غیر توازن ہو کر اِدھر اُدھر گر پڑتا ہے۔ مگر خدا کے پھینکے ہوئے اجسام نہایت صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر قائم ہیں۔ اربوں سال کے اندر بھی ان کے توازن میں کوئی فرق نہیں آیا۔ میری میز سے دوسری میز کا فاصلہ بمشکل تین میٹر ہے۔ مگر میرے لئے یہ ممکن نہ ہو کہ میں رجسٹر کو اس طرح پھینکوں کہ وہ صحیح پوزیشن کے ساتھ دوسری میز پر گرے۔ مگر خدا کی قدرت کس قدر عجیب ہے کہ وہ لا تعداد اجسام کو لا محدود خلا میں گردش دئے ہوئے ہے اور ہر ایک اپنی صحیح ترین پوزیشن پر قائم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت پہلے ساری کائنات کا نظام در ہم برہم ہوجاتا اور یہ نوبت ہی نہ آتی کہ زمین پر انسان وجود میں آئے اور اپنی تہذیب یہاں بنا سکے۔ ۲۶ جنوری ۱۹۸۲ سورہ ق آیت ۳۸ کی تشریح میں مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں کہ : " اس میں ضمناً یہود کے اس خیال پر بھی تعریض ہے جو تورات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا۔" تدبر قرآن ، جلد ششم ، صفحہ ۵۶۶ یہی بات مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اپنی تفسیر میں ان الفاظ میں لکھی ہے : " اس آیت میں ضمناً ایک لطیف طنز یہ یہود و نصاریٰ پر بھی ہے۔ جن کی بائبل میں یہ افسانہ گڑھ گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا۔" تفہیم القرآن ، حصہ پنجم صفحہ ۱۲۵

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader