Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں ہمارے اکثر اہل قلم کا یہ حال ہے کہ وہ ایک بات لکھتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے پہلو سے ٹکرا رہی ہے۔ سائنٹفک عبارت وہ ہے جس میں ہر پہلو کی رعایت شامل ہو۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصنفین کے یہاں اس قسم کی سائنٹفک عبارت شکل ہی سے کہیں تلاش کی جاسکتی ہے۔ مذکورہ عبارت میں اس کے لکھنے والوں نے ۔ یہود کو دیکھ مگر خدا کو نہ دیکھ سکے۔ چنانچہ ان جملوں میں جو الفاظ ہیں وہ مخاطب کے اعتبار سے صحیح ہوسکتے ہیں مگر وہ متکلم کے اعتبار سے صحیح نہیں۔ مذکورہ دونوں مفسرین اس موقع پر نہایت آسانی سے تصحیح یا تردید کا لفظ استعمال کر سکتے تھے جو خدا کے شایانِ شان ہوتا۔ اس کے بجائے انھوں نے طنز اور تعریض کا لفظ استعمال کیا۔ جو یقینی طور پر خدا کی عظمت و شان کے مطابق نہیں۔ ۲۷ جنوری ۱۹۸۳ ایک لطیفہ ہے۔ کسی مولوی صاحب نے وعظ بیان کیا۔ وعظ میں انھوں نے کہا کہ وضو نماز کے لئے شرط ہے۔ جو شخص وضو کے بغیر نماز پڑھے گا اس کی نماز نہیں ہوگی۔ ایک پٹھان صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ آپ غلط کہتے ہیں کہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ ہم نے تو بارہا وضو کے بغیر نماز پڑھی ہے اور ہماری نماز ہوگئی (بارہا کریم و شد) مولوی صاحب پٹھان کی بات سن کر ہنس پڑے۔ ان کے نزدیک پٹھان کی بات بیوقوفی کی بات تھی۔ کیوں کہ جو نماز وضو کے بغیر پڑھی جائے وہ نماز نہیں، صرف اٹھ بیٹھ ہے۔ دوسری طرف پٹھان کو یقین تھا کہ اس کی نماز ہوگئی ، کیونکہ اس کے نزدیک نماز کے ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اس نے تکبیر اولیٰ سے لے کر سلام پھیرنے تک کسی نہ کسی طرح تمام ارکان کو دہرادیا۔ اس واقعہ میں بظاہر مولوی صاحب صحیح نظر آتے ہیں اور پٹھان غلط۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں بہت زیادہ فرق نہیں۔ دونوں ہی کچھ ظاہری چیزوں کے دہرالینے کو نماز سمجھتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ پٹھان نے اس دہرانے کی فہرست میں وضو کو شامل نہیں کیا ہے اور مولوی صاحب نے وضو کو بھی شامل کر لیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page