ڈائری
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
حالاں کہ نماز کا ہونا یہ ہے کہ اس کے اندر خشوع کی کیفیت پائی جائے۔ کیوں کہ خدا کی نظر میں وہی نماز نماز ہوتی ہے جس میں خشوع موجود ہو۔ نماز وہ ہے جو خدا کے یہاں قبول ہو جائے ، نہ کہ وہ جس کو ہم بطور خود یہ سمجھ لیں کہ نماز ہو گئی۔ ۲۸ جنوری ۱۹۸۳ء تین خلائی ہیرو (space heroes) راکیش شرما، پوری مالی شیو، گناڈی اسٹریکالوف۔ اپریل ۸۴ ۱۹ کو اپنے آٹھ روزہ خلائی سفر سے زمین پر اترے تو وہ خلا میں پانچ تین کلو میٹر کا سفر طے کر چکے تھے۔ مگر جب ان کو خلائی مشین سے باہر نکال کر دوبارہ زمین پر لایا گیا تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سے معذور تھے۔ اس دن ٹیلیویژن پر خلائی پروگرام کو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مسٹر شرما زمین پر ایک مفلوج کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے چہرہ پر سخت شرمندگی کے آثار ہیں اور لوگ ان کا بازو پکڑ کر ان کو کرسی پر بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ ان کا بے وزنی (weightlessness) کی حالت میں آٹھ دن رہنا تھا۔ مسٹر شرما اور ان کے روسی ساتھی جب زمین سے تین سو کلو میٹر اوپر خلا میں اُڑان کر رہے تھے تو ان کا جسم بالکل بے وزن ہو چکا تھا۔ وہ خلائی گاڑی (Soyuz) کے اندر اسی طرح تیرتے تھے جس طرح مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔ مسٹر شرما نے ایک خلائی انٹرویو کے درمیان کہا تھا کہ : اس وقت میں اپنے ٹوٹھ پیسٹ اور برش کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میرے ہاتھ سے چھوٹ کر چھت پر جانےلگے ہیں۔ ۲۹ جنوری ۱۹۸۳ء قرآن نے علم کی دو قسمیں مانی ہیں۔ ایک تنزیلی، دوسرا عقلی۔ پہلا وہ ہے جو خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بھیجا ہے۔ اور دوسرا وہ جو انسان نے اپنے تجربہ سے جانا ہو اور نسل در نسل تحقیقات کے بعد وہ لوگوں کے درمیان تسلیم شدہ بن جائے: ائتونى بكتاب من قبل هذا او کہو کہ میرے پاس قرآن سے پہلے کی کوئی الہامی اثارة من علم ان كنتم صادقين (الاحقاف ۴) کتاب لاؤ یا کوئی علم جو چلا آتا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader