Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

آيت میں اشارۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی بقیہ (mnant) کے ہیں۔ اردو میں اس کا صحیح مفہوم ہوگا ”یا کوئی اور علم جو تمہارے درمیان چلا آتا ہو۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا علم جس کو ایک کے بعد دوسرے اہل علم کی تحقیق رد نہ کرے، بلکہ وہ ان کے نزدیک مسلم چلا آرہا ہو۔ بالفاظ دیگر مصدرِقہ علم۔ مفسر ابن کثیر نے اس سلسلہ میں مختلف علماء کے اقوال نقل کئے ہیں اور لکھا ہے کہ یہاں کتاب سے مراد دلیل نقلی ہے اور آثارۃ سے مراد دلیل عقلی رائے (لا دلیل نقلا ولا عقليا على ذلك) آجکل کی زبان میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اول الذکر سے مراد الہامی علم (revealed knowledge) ہے اور دوسرے سے مراد سائنسی علم (Scientific knowledge) ۳۰ جنوری ۱۹۸۳ء قال عليه الصلاة والسلام: من أراد الآخرة فعليه بالعلم، ومن اراد الدنيا فعليه بالعلم ومن ارادهما معًا فعليه بالعلم (العربی ، کویت ، دسمبر ۱۹۸۰ ، صفحه ۱۰۵) جو شخص آخرت چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ علم سیکھے۔ اور جو شخص دنیا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ علم سیکھے۔ اور جو شخص دنیا و آخرت دونوں کو چاہئے تو اس کے لئے بھی لازم ہے۔ علم کی ضرورت ہر شخص کو ہے، خواہ وہ دنیا کا طالب ہو یا آخرت کا علم کے بغیر نہ صحیح طور پر دنیا مل سکتی ہے اور نہ صحیح طور پر آخرت۔ ۳۱ جنوری ۱۹۸۳ء ایک ایسے شہر کا تصور کیجئے جہاں کوئی مسجد نہ ہو اور بہت سے لوگ مسجد بنانے کے لئے اٹھیں مگر ہر آدمی گنبد کھڑا کرنے سے اپنی مسجد کی تعمیر کا آغاز کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسے شہر میں ہزاروں آدمیوں کی کوششوں کے باوجود کبھی کوئی مسجد نہ بن سکے گی۔ مسجد بننے کے لئے بہت سی اینٹوں کو اس پر راضی ہونا پڑتا ہے کہ وہ بنیاد میں دفن ہو جائیں۔ بہت سی اینٹوں کو چھت کا بوجھ سنبھالنے کے لئے نیچے کی دیوار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد چھت بنتی ہے اور اس کے بعد یہ نوبت آتی ہے کہ اس کے اوپر وہ گنبد کھڑا ہو جو دیکھنے والوں کو دور سے نظر آئے ۔ گنبد آخری مرحلہ کا کام ہے اور جب تک ابتدائی مرحلہ کا کام انجام نہ پائے آخری مرحلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page