Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

کا کام کیسے انجام دیا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے احیاء کے لئے بے شمار شخصیتیں اور تحریکیں اٹھیں، مگر سب کی سب طوفان خیز کوششوں کے باوجود بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے "گنبد" سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ کوئی بھی "بنیاد" سے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ ایسی حالت میں ان کی کوششیں نتیجہ خیز، ہوتیں تو کیوں کر ہوتیں۔ یکم فروری ۱۹۸۲ ہر زبان کا اپنا اسلوب ہوتا ہے۔ اس اسلوب کو اہل زبان تو فورا سمجھ لیتے ہیں۔ مگر غیر اہل زبان کو اس قابل بننے کے لئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے کہ وہ اسلوب کے فرق کو سمجھ سکیں۔ مثلاً خیالات کہاں سے آتے ہیں۔ اس کو انگریزی زبان میں کہنے کی ایک صورت یہ ہے کہ یوں کہا جائے: From where come ideas. ایک شخص جو معمولی انگریزی جانتا ہو وہ اس جملہ کو سنے گا تو وہ یہی سمجھے گا کہ یہ انگریزی ہے۔ مگر جو شخص اسلوب کی نزاکتوں سے واقف ہے وہ پہلی ہی نظر میں اس کو رد کر دے گا کیونکہ یہ وہ انگریزی نہیں جو اہل زبان بولتے ہیں۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے صحیح انگریزی جملہ یہ ہے : Where do ideas come from. یہی معاملہ ہر زبان کا ہے، خواہ وہ انگریزی زبان ہو یا اور کوئی زبان غیر اہل زبان کی کتاب اہل زبان کے درمیان مقبول نہ ہونے کا خاص راز۔ یہی ہے۔ ۲ فروری ۱۹۸۳ مدینہ کے ابتدائی ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ نماز کے پکارنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس وقت کسی نے ناقوس کی تجویز پیش کی، کسی نے گھنٹہ کی، وغیرہ۔ مگر آپ نے اس طرح کی تجویزوں کو پسند نہیں فرمایا۔ اذان اگرچہ نماز کے لئے بلانے کی ایک تدبیر ہے۔ مگر اسلام کی روح یہ ہے کہ تدبیر عمل میں بھی اصل عمل کی شان پائی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page