ڈائری
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
آخر میں حضرت عبداللہ بن زید بن ثعلبہ نے خواب میں نماز کے الفاظ دیکھے اور آ کر آپ کو اپنا یہ خواب بیان کیا۔ آپ نے فرمایا: انها لرؤيا حق انشاء الله (انشاء الله یہ سچا خواب ہے)، پھر آپ نے ان سے کہا کہ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ ان کو اذان کے الفاظ بتاتے جاؤ اور وہ پکارتے جائیں۔ کیوں کہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز ہیں (فانہ اندی صوتان منك، الرسول في المدينة ، صفحه (۳۱) حضرت عبداللہ بھی صحابی تھے اور حضرت بلال بھی صحابی تھے۔ مگر اذان پکارنے کے لئے آپ نے حضرت بلال کا انتخاب فرمایا۔ اگر چہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ شین کی آواز نکال نہیں پاتے تھے اور اشہد کو اسہد کہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو کام پیش نظر ہو اسی کے لحاظ سے آدمی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اذان میں اصل اہمیت بلند آواز ی کی ہے۔ اس لئے آپ نے حضرت بلال کا انتخاب فرمایا جو بلند آواز تھے، اگر چہ انھوں نے اذان کا خواب نہیں دیکھا تھا، اگر چہ بعض اعتبار سے ان میں کمی پائی جاتی تھی۔ ۳ فروری ۱۹۸۴ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ ہوئی تو آپ کا یہ حال ہوا کہ تنہائی آپ کو محبوب ہوگئی اور آپ غار حرا میں خلوت اختیار کرنے لگے (حبّب عليه الخلاء فكان يخلو بغار حراء، بخاری) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ غار حرا میں کیا کرتے تھے۔ اگر آپ عبادت کرتے تھے تو وہ کس قسم کی عبادت ہوتی تھی۔ محدثین کا کہنا ہے کہ آپ کسی سابقامت میں سے نہ تھے۔ اور نہ کسی پچھلے نبی کے پیرو تھے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ فلاں پیغمبر مثلاً حضرت موسیٰ یا عیسیٰ کے طریقہ پر عبادت کرتے تھے۔ حضرت جبرئیل ابھی تک آپ کے پاس آئے نہیں تھے کہ وہ اسلام کا طریقہ عبادت آپ کو بتائیں۔ پھر یہ عبادت کیسی تھی۔ اس کا جواب حدیث کی شرح کرنے والوں نے یہ دیا ہے کہ غار حراء میں آپ کی عبادت کا طریقہ یہ تھا کہ آپ وہاں غور وفکر کرتے تھے اور عبرت حاصل کرتے تھے (كان صفة تعبدة في غار حراء التفكر والاعتبار)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader