Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

کی اپنی فوج کا یہ حال تھا کہ اس کے سردار مرہٹوں سے مل جاتے تھے۔ حتیٰ کہ خود محل کے شہزادے بھی غداری کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ مثلاً ستارہ میں اورنگ زیب کی فوجیں شہزادہ محمد اعظم کے ماتحت تھیں۔ مرہٹے شہزادہ کو اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ ان کی رسد رسانی میں رکاوٹ نہ ڈالے گا۔ چنانچہ وہ قلعہ جس میں محاصرہ کے وقت صرف دو ماہ کی رسد تھی، چھ ماہ تک بھی ختم نہ ہوا۔ 1704ء میں جب اورنگ زیب جنوبی دکن چھوڑ کر کھجیرہ کی طرف روانہ ہوا تو تھوڑے ہی دنوں میں ستارہ، برنالہ ،پادگڑھ کے قلعے مغلوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔ اورنگ زیب کو خود بھی ان اخلاقی کمزوریوں کا بخوبی علم تھا۔ وہ اپنے رقعات میں بار بار اس کا ذکر کرتا ہے۔ مثلاً ایک جگہ لکھتا ہے: آدم ہوشیار، امانت دار، خدا ترس، آبادان کار کم یاب : نیست جز آدم دریں عالم کہ بسیا راست و نیست وہ ایک اور جگہ لکھتا ہے : حالایک کس برائے دیوانی بنگالہ کہ بہ حلیہ راستی و کار دانی آراسته باشد می خواهم، یافته نه شود ۔ از نایابی آدم کار آه آه بنگال کی دیوانی کے لئے میں ایک شخص چاہتا ہوں جو سچا اور معاملہ فہم ہو ، مگر وہ نہیں ملتا۔ کام کے آدمی نہ ملنے پر افسوس ! اورنگ زیب کے زمانہ میں اسلامی اقتدار ، علماء ، صوفیاء ، قانون اسلامی کا نفاذ ہر چیز موجود تھا۔ اس کے باوجود سارا معاملہ بگڑ ہوا تھا۔ اس واقعہ کو تین سو سال گزر چکے ہیں مگر اس پوری مدت میں مجھے کوئی ایک شخص بھی نہیں معلوم جس نے اس سے صحیح سبق لیا ہو۔ ہر شخص تقریبًا اسی نہج پر سو چتار با جس کا اظہار بعد کو اقبال نے اس طرح کیا تھا: خدا ایم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کسی نے یہ نہ سوچا کہ اورنگ زیب کے زمانہ میں اور اس کے بعد بھی (مثلاً سید احمد شہید بریلوی کے زمانہ میں) اس مٹی کو بار بار نم کیا گیا۔ بلکہ اس کو جبل قتل کر دیا گیا، اس کے باوجود وہ زرخیز نہ ہوئی۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان کے نام سے اب جو قوم ہے وہ پوری طرح زوال کا شکار ہے۔ اس کے افراد میں جان نہیں رہی۔ اس کا اظہار اورنگ زیب کے زمانہ میں ہو گیا تھا۔ اس کا واحد حل صرف یہ تھا کہ غیر مسلم اقوام میں تبلیغ کی جائے، تاکہ ان کے اندر سے جاندار افراد نکل کر مسلمانوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page