ڈائری
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
زندہ قوم زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہے اور مردہ قوم مردہ لوگوں کی ۔ اس کی ایک مثال موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ زندہ لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور مردہ لوگوں کو پوجتے ہیں۔ ان کے نزدیک ساری اہمیت صرف ان لوگوں کی ہے جو مر چکے ہیں۔ جو لوگ ان کے سامنے زندہ موجود ہیں ان کی کوئی اہمیت ان کے نزدیک نہیں۔ یہاں ایک شخص کہے گا کہ آج ایسے بھی مسلمان ہیں جو زندہ ہیں۔ اس کے باوجود انہیں قوم کے اندر عزت اور مقبولیت حاصل ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ یہ زندہ لوگ وہ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو کسی مردہ شخصیت سے جوڑ رکھا ہے۔ وہ مردہ اسلاف کے نام پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جنھیں سلسلہ اسلاف کی کوئی گدی اتفاقاً مل گئی ہے اور کچھ وہ ہیں جو اسلاف کی قصیدہ خوانی کر کے اپنے آپ کو ان کے سلسلہ سے ملائے ہوئے ہیں۔ اسلاف پرستی کا یہ مزاج بے عملی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ لوگ جب کئے بغیر پانا چاہیں تو وہ اپنے اسلاف کی مبالغہ آمیز شخصیتوں سے ایسا رشتہ جوڑ لیتے ہیں۔ وہ ان کی فرضی تصویر سے اپنے لئے فخر کی غذا لیتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی برکت سے سب کچھ ہو جائے گا۔ باعمل لوگ زندوں کی قدر کرتے ہیں اور مردہ لوگوں کو اس کے سوا کچھ معلوم نہیں کہ وہ مردہ اسلاف کی فرضی کہانیوں میں جیتے رہیں اور خود کچھ بھی نہ کریں۔ ۵ فروری ۱۹۸۳ فقہ کیا ہے۔ ابن تیمیہ نے مختصر لفظوں میں اس کی نہایت عمدہ تعریف کی ہے۔ انھوں نے کہا: هو معرفة الحق بدليله وہ حق کو اس کی دلیل کے ساتھ معلوم کرنا ہے۔ یہاں ”حق“ سے مراد اساسی حقیقتیں ہیں۔ مگر بعد کو لوگوں نے فروعی مسائل میں افضل اور غیر افضل اور راجح اور مرجوح کی تلاش غیر ضروری طور پر شروع کر دی اور اس کو حق کا مسئلہ سمجھ کر اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader