ڈائری
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
نقطہ قرار دیا۔ یہ ذہن اتنا بڑا تھا کہ جزئی اور فروعی مسائل کے بحث مباحثہ کو فقہ سمجھا جانے لگا۔ شریعت میں فقہ سے مراد حق کی معرفت ہے اور حق سے مراد اساسی چیزیں ہیں نہ کہ فروعی چیزیں۔ اساسی چیزیں ہمیشہ ایک ہوتی ہیں اور فروعی چیزوں میں ہمیشہ تنوع ہوتا ہے۔ اس لئے فروعی چیزوں کو ایک بنانے کی کوشش ہمیشہ اختلاف پیدا کرتی ہے۔ یہ ایسی چیزوں میں یکسانیت تلاش کرتا ہے جس میں یکسانیت ممکن نہیں۔ فقہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حکمتِ اسلام کا نام تھی مگر اس کو ظاہری تفصیلات کے ہم معنی بنا دیا گیا۔ ۶ فروری ۱۹۸۴ صلح حدیبیہ ۳ھ میں ہوئی۔ اس کی دفعات بظاہر ایک طرفہ طور پر فریق ثانی کے حق میں تھیں ۔ چنانچہ حضرت عمر نے کہا کہ یہ اہانت آمیز صلح کیوں ۔ مگر قرآن نے اس کو کھلی فتح (فتح مبین) قرار دیا۔ اس کی ایک وجہ وہ تھی جو شمس الائمہ سرخسی نے اپنی کتاب المبسوط اور شرح السیر الکبیر میں لکھی ہے ۔ اور وہ یہ کہ اس کے ذریعہ قریش پابند ہو گئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی کی حمایت نہ کریں گے۔ صلح حدیبیہ کے فوراً بعد آپ نے خیبر کی طرف اقدام کیا اور قریش اپنے معاہدہ کی بنا پر غیر جانب دار اور نا طرف دار رہے۔ اس طرح یہ مہم با آسانی کامیاب ہوگئی۔ دوسرا اس سے زیادہ بڑا فائد ہ دعوتی تھا۔ جنگ کے حالات ختم ہونے کے بعد دعوت کا کام بہت بڑھ گیا ۔ اس میں یہ تھا کہ آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد ہمسایہ بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حکمرانوں کو اپنی دعوت کا مخاطب بنایا ۔ آپ نے جن حکمرانوں کو دعوتی خطوط روانہ کئے ان میں رومی حکمران ہرقل ، ایرانی حکمران کسریٰ پرویز اور حبشی حکمران اصحمہ نجاشی تھا۔ اس طرح آپ کی دعوت بیک وقت تینوں آباد براعظم (یورپ، ایشیا، افریقہ) میں پہنچ گئی۔ صلح حدیبیہ بظاہر میدان سے واپسی کے ہم معنی تھی۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ وسیع دائرہ میں عمل کے مواقع کھل گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader