ڈائری
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان میں مختلف مذاہب اور مختلف فرقے آباد ہیں۔ ان کے عقائد اور کلچر جدا جدا ہیں ان کے درمیان مسلسل کش مکش جاری رہتی ہے۔ اس کا حل کیا ہو۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے اس کے حل کے لئے ایک ترکیب وضع کی جوان کے الفاظ میں یہ تھی: "اقوام مختلفہ کی متحدہ جمہوریہ" اسی طرح اس کے حل کے لئے مدنی فارمولا اور آزاد فارمولا پیش کیا گیا۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ریاستوں میں حسب آبادی سیٹوں کا تناسب قائم کیا جائے اور مرکز میں ہندو اور مسلم ممبران کی تعداد برابر برابر ہو۔ اقبال نے الٰہ آباد کے خطبہ میں تقسیم کا نظریہ پیش کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام حل محض بے معنی الفاظ کے مجموعے تھے، جیسا کہ فی الواقع وہ ثابت ہوئے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے کرنے کا کام صرف ایک تھا اور وہ دعوت ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ توحید خالص کی دعوت لے کر اٹھیں اور اس کے تمام ضروری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسے جاری رکھیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے اکابر امت میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جس نے مسلمانوں کے سامنے یہ پیغام رکھا ہو۔ ۸ فروری ۱۹۸۴ "مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں مشرکین نے مسلمانوں پر درد ناک مظالم کئے۔ یہاں تک کہ مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ مدینہ پہنچ کر ابتدا دائکہ پر پرملہ کا منصوبہ بنایا گیا۔ اگرچہ ہجرت کے پہلے سال الابواء، بواط، عشیرہ وغیرہ چھوٹے چھوٹے غزوات د سرايا وقوع پذیر ہوئے ۔ ان کا مقصد مشرکین کے کے تجارتی سلسلوں کو جو شام و یمن وغیرہ سے قائم تھے، شکست دیگر ظالموں کی اقتصادی حالت کمزور اور مسلمانوں کی مالی پوزیشن مضبوط کرنا تھا۔" یہ بتاتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر قرآن میں لکھتے ہیں: "کہ کا ادب مانع تھا کہ مسلمان ابتداً وہاں چڑھ کر جائیں۔ اس لئے ہجرت کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک یہ لائحہ عمل رہا۔ صفحہ ۲۲۸ مکہ کی طرف چڑھائی کرنے سے اگمکہ کا ادب مانع تھا تو فتح مکہ کے موقع پر کیوں مکہ پر چڑھائی کی گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader