Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

جب بھی کوئی غیر واقعی تشریح کی جائے گی تو وہ دوسرے معلوم حقائق سے ٹکر اجائے گی۔ دوسری بات یہ کہ اس طرح کی تشریح سے غلط ذہن بنتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " تیرہ سال " تک جو صبر کیا وہ سب ایک خاص شہر کے " ادب " کے خانہ میں چلاگیا۔ اس سے بعد کے مسلمانوں کو طوقی عملی کی بابت کوئی رہ نمائی نہیں ملی۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ ہر حال میں بس لڑ جانے کو سب سے بڑا کام سمجھیں گے۔ اور رسول اللہ جو ایک عرصہ تک مکہ والوں سے نہیں لڑے اس کو وہ " ادب " کے خانہ میں ڈال دیں گے۔ اور اپنے لئے اس سے کوئی نصیحت نہ لے سکیں گے۔ ۹ فروری ۱۹۸۲ قرآن میں ہے کہ : اليوم احل لكم الطيبات و طعام الذين اوتوا الكتاب حل لكم و طعامكم حل لهم ( المائدہ ۵ ) یعنی آج تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ اس آیت سے کچھ لوگوں نے یہ نکال لیا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ یہودی اور عیسائی لوگوں کا " طعام " تمہارے لئے حلال ہے۔ اب چونکہ یہودی اور عیسائی خنزیر کھلاتے ہیں۔ خنزیر ان کا طعام ہے۔ اس لئے یہ مسلمانوں کے لئے بھی حلال ہوا۔ یہ استدلال بالکل جاہلانہ ہے۔ یہاں طعام سے مراد محض طعام نہیں بلکہ اس سے مراد ذبیحہ ہے یہاں طریق طعام کا ذکر ہے نہ کہ جنس طعام کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی یہودی یا عیسائی اگر ایک حلال جانور کو اپنے مذہبی طریقہ پر ذبح کرے تو اس کا کھانا مسلمانوں کے لئے جائز ہے۔ تاہم جو شخص اسلام سے مرتد ہوکر، یہودی یا عیسائی بن جائے تو اس کے احکام الگ ہیں۔ کیوں کہ مرتد ہوکر یہودی یا عیسائی بننے والوں کا ذبیحہ از روئے فقہ جائز نہیں۔ اسٹینڈ ویکلی آف انڈیا ( بمبئی ) انگریزی کا مشہور ہفت روزہ ہے۔ وہ ۸۸۰ میں جاری ہوا۔ اس کی ۱۰ جون ۱۹۷۹ کی اشاعت کرکٹ نمبر تھی جس کا عنوان تھا: " ورلڈ کپ کریکٹ اسپیشل "

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page