ڈائری
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اشاعت ۴۰۰۰ کی تعداد میں چھپی ۔ یہ تعداد اس کے پچھلے سو برس کی تمام اشاعتوں میں سب سے زیادہ ہے ـــــــ آج کی دنیا میں لوگ کھیل تماشے کی باتوں کے سب سے زیادہ خریدار ہوتے ہیں۔ سنجیدہ باتوں سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ آدمی سطحی چیزوں میں اتنا زیادہ کھویا ہوا ہے کہ گہری باتوں میں دھیان دینے کا اسے خیال بھی نہیں آتا۔ ۱۱ فروری ۱۹۸۳ء میں جس زمانہ میں مدرسۃ الاصلاح میں پڑھتا تھا۔ اس زمانہ کا ایک لطیفہ ہے۔ ہم لوگ مولانا امین احسن اصلاحی کے کلاس میں تھے۔ وہ ہم لوگوں کو قرآن اور ادب پڑھاتے تھے۔ ایک روز درس کے دوران کوئی عربی لفظ آیا ۔ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے لوگوں سے اس کا مطلب دریافت کیا۔ ایک بہاری طالب علم جس کا نام غالباً مطیع الرحمن تھا، وہ بول پڑے اور انھوں نے کہا: " باڑیک " مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اس کو سن کر کہا ” آپ نے تو اس کو اور موٹا کر دیا۔“ بہاری لوگ اکثر ر کو ڈ اور ٹ کو ر بولتے ہیں۔ ۱۲ فروری ۱۹۸۲ء " کلمہ گو کے لئے جنت ہے " یہ مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ بن گیا ہے۔ مجھے یہ بات قرآن وحدیث کی تعلیمات کے مطابق نظر نہیں آتی تھی۔ اگر چہ میں تسلیم کرتا تھا کہ دین میں اصل اہمیت ایمان کی ہے۔ سب کچھ ایمان پر منحصر ہے۔ مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ " کلمہ گو کے لئے جنت ہے " کا عقیدہ کیوں کہ صحیح ہے۔ اچانک ذہن میں یہ بات آئی کہ اس جملہ میں ایک صحیح بات کو غلط شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ــــــــ " جنت صاحب ایمان کے لئے ہے" دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنت صاحب کلمہ کے لئے ہے نہ کہ محض کلمہ گو کے۔ صاحب کلمہ یا صاحب ایمان وہ ہے جو کلمہ اور ایمان کی حقیقت کو اپنے اندر اتارے ہوئے ہو۔ کلمہ کا زبان سے تلفظ کرنا دوسری چیز ہے اور کلمہ کی حقیقت کا دل میں اتر نا دوسری چیز ہے۔ اسی فرق کو میں ان لفظوں میں ادا کر رہا ہوں کہ ــــــــ جنت صاحب کلمہ کے لئے ہے نہ کہ محض کلمہ گو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader