ڈائری
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے۔ جب کبھی اسلام کی بات کی جائے تو سننے والے کہتے ہیں کہ : موجودہ زمانہ کے مسلمان کہاں اس اسلام پر ہیں۔ یہ ایک غلط فہمی ہے” مسلمان “سے مراد کوئی نسلی گروہ نہیں ہے بلکہ وہ افراد ہیں جوذ ہنی انقلاب کے ذریعہ مسلمان بنے ہوں۔ اسلام آدمی کے شعور میں ایک انقلاب لاتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ شعوری انقلاب آئے وہی دراصل وہ لوگ ہیں جن کو مومن اور مسلم کہا گیا ہے۔ جب بھی اسلام سے پیدا ہونے والے اخلاق و کردار کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد وہ اہل اسلام ہوتے ہیں جوذ ہنی انقلاب کے ذریعہ مسلمان بنے ہوں۔ محض اتفاقی پیدائش سے مسلمان بن جانے والوں کو اس معاملہ میں معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ ۱۴ فروری ۱۹۸۴ مسلمانوں کے جتنے قائد اور مفکر ہیں سب جہاد اور انقلاب کی باتیں کرتے ہیں۔ ہر ایک مانی اور آفاقی الفاظ میں کلام کرتا ہے۔ ان میں کوئی نظر نہیں آتا جو احتساب خویش اور فکر آخرت کی باتیں کرے ۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل دینی سرمایہ جھوٹا فخر ہے۔ جھوٹے فخر نے ہر ایک کو کبر کی نفسیات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مذکورہ صورت حال کی وجہ غالباً یہی ہے۔ فخر اور کبر کی نفسیات رکھنے والے آدمی کو تواضع والا اسلام اپیل نہیں کرے گا۔ اس کو صرف انقلابی اسلام ہی اپیل کر سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ” احتساب کائنات “ کی بات بڑی بات معلوم ہوگی۔ اس کے برعکس جو شخص احتساب خویش کی بات کرے وہ انھیں حقیر دکھائی دے گا۔ خواہ احتساب کائنات کی بات باعتبار حقیقت کتنی ہی بے معنی کیوں نہ ہو۔ قرآن کو پڑھئے تو اس میں سب سے زیادہ ذکر پیغمبروں کا ہے۔ قرآن میں بت بتایا گیا ہے کہ دنیا میں بار بار خدا کے رسول آئے۔ انھوں نے لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ چند لوگوں نے مانا اور بیشتر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader