ڈائری
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں نے نہیں مانا۔ پھر ماننے والوں کو بچا کر بقیہ تمام لوگ ہلاک کر دئے گئے۔ قرآن تاریخ کے اس پہلو کو اتنی کثرت سے بیان کرتا ہے گویا اس کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تاریخی بات یہی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تاریخ انسانی کا یہ پہلو انسانوں کی درون کی ہوئی تاریخ میں سرے سے مذکور ہی نہیں۔ انسانوں کی لکھی ہوئی تاریخ کسی ایسے واقعہ کے ذکر سے بالکل خالی ہے۔ جو بات قرآن کے نزدیک سب سے زیادہ قابل ذکر تھی وہی تاریخ میں درج ہونے سے رہ گئی۔ ہاں ورق کہ سیا گشتہ مدعا این است اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو موجودہ دنیا میں کس قدر زیادہ آزادی دی ہے۔ انسان کو یہ آزادی اگر چہ امتحان کے مقصد سے دی گئی ہے۔ مگر وہ اتنی مکمل ہے کہ انسان خواہ جو بھی کرے اس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ اس سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ بے آمیز حق کی دعوت شیطان کو انتہائی حد تک ناپسند ہے۔ وہ اس کو مٹانے کے لئے ساری قوت لگا دیتا ہے۔ چنانچہ وہ پہلے دور کی تمام تاریخوں کو مٹاتا رہا۔ پنیر آخر از ماں کی تاریخ کو وہ نہ مٹا سکا کیوں کہ آپ کے ساتھ خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی نصرتِ حفاظت شامل تھی۔ ۱۶ فروری ۱۹۸۴ ہندوستان میں آزادی کے بعد تقریباً دس ہزار فسادات ہو چکے ہیں۔ یہ فسادات زیادہ تر اس طرح ہوتے ہیں کہ مسلمان کسی چھوٹے سے واقعہ پر مشتعل ہو جاتے ہیں اور پھر ملک کے حالات کے بنا پر بہت جلد وہ مسئلہ بند ومسلم مسئلہ بن جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے جس میں ہمیشہ صرف مسلمان مارے جاتے ہیں۔ میں شاید ملک میں تنہا ایک شخص ہوں جو مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتا ہے۔ اور اس قسم کے بے فائدہ ٹکراؤ سے روکتا ہے۔ مسلمانوں میں جتنے بھی مسلم اور رز بانہیں ہیں سب کے سب متفقہ طور پر مفت ہلا اور ٹکراؤ کی باتیں کرتے ہیں۔ اور اس کو جہاد قرار دیتے ہیں۔ مگر فسادات کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ اس میں مرنے والے ہمیشہ صرف عام مسلمان ہوتے ہیں۔ ہمارے لیڈر اور ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ کبھی ان فسادات میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader