ڈائری
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے قائدین صرف دوسروں کو للکارنے کے لئے تیار ہیں ، وہ خود لڑنے کے لئے بہادر نہیں۔ کسی مفکر کا قول ہے کہ سزا کی شدت نہیں بلکہ سزا کی ناگزیر یت وہ چیز ہے جو آدمی کو جرائم سے روکتی ہے : It is not the severity of punishment that acts as a deterrent. It is its inevitability. دنیا کا کوئی بھی نظام ایسا نہیں جس کی سزا میں ناگزیر یت ہو جس کے بارہ میں آدمی کو یقین ہو کہ اس کو ضرور بھگتنا پڑے گا ، اس سے بچ کر نکلنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے نظام اگرچہ ہر جرم کی سزا مقرر کئے ہوئے ہیں ۔ مگر یہ سزائیں جرائم کا روک تھام ثابت نہ ہوسکیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک ہی نظام ہے جس کی سزا میں ناگزیر یت ہے اور وہ خدائی نظام ہے جس آدمی کو خدا کی پکڑا اور اس کی سزا کا واقعی شعور حاصل ہو جائے ، وہ لازما پرہیز گار بن جائے گا ۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ جرم کرنے کے بعد خدا کی سزا سے اپنے آپ کو بچانا کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ ۸ فروری ۱۹۸۴ ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ لوگوں کا قائد بننا ہو تو لوگوں کے پیچھے چلو : To lead the people, walk behind them. یہ سستی اور سطحی قیادت کی نہایت صحیح تعبیر ہے۔ لوگوں کے درمیان قائد بننے کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ آدمی وہ بات کہنے لگے جو لوگوں کو پسند ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام بڑے بڑے لیڈروں کا کیس یہی ہے ۔ انھوں نے عوام کی خواہشات کا ساتھ دیا۔ انھوں نے عوامی رجحانات کی ترجمانی کی۔ اس کی انھیں یہ قیمت ملی کہ عوام کی بھیڑ ان کے گرد جمع ہوگئی۔ اگر وہ عوام کی خواہشات کے خلاف کوئی پروگرام لے کر آتے تو انھیں ہرگز یہ مقبولیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader