Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

درمیان شامل ہوں۔ اس طرح "نیا خون" ملنے سے مسلمانوں کی صف میں جان آئے گی اور وہ اسلام کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو سکیں گے۔ مگر اس مدت میں مسلمانوں نے سب کچھ کیا مگر وہی ایک کام دیکھا جس کا کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا۔ یکم فروری ۱۹۸۳ میرا شروع سے یہ طریقہ رہا ہے کہ جب میرے ذہن میں کوئی نیا خیال آتا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ کوئی ہو جس سے میں اس کے بارے میں بات کروں۔ اس طرح کی گفتگو سے اپنے خیال کو مزید واضح کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح جب میں کوئی مضمون حتی کہ کوئی خط لکھتا ہوں تب بھی میں چاہتا ہوں کہ کوئی ہو جس کو اسے دکھاؤں اور اس کے بارے میں اس کا رد عمل معلوم کر دوں۔ اس معاملے میں میرا طریقہ وہی ہے جس کا ذکر نصف شب کی آزادی (Freedom at Midnight) کے مصنفین نے کیا ہے۔ وہ اپنی کتاب کے ہر باب کو لکھ کر ایک خاتون کو دکھاتے تھے اور اس کے بارے میں اس کا رد عمل معلوم کرتے تھے۔ اس طرح تبادلہ اور تنقیح کرتے ہوئے انھوں نے اپنی پوری کتاب مرتب کی۔ یہ کام میں اپنی پوری علمی اور تحریری زندگی میں کرتا رہا ہوں۔ مثال کے طور پر "تعبیر کی غلطی" اور "مذہب اور جدید چیلنج" کا مسودہ میں نے پیشگی طور پر کئی لوگوں کو پڑھایا۔ اس کے بعد ان کو شائع کیا۔ ۱۹۷۷ میں جب میں دہلی آیا تو جلد ہی میرے پے بھی دہلی آگئے۔ اس کے بعد سے اس نوعیت کا کام میں سب سے زیادہ اپنی لڑکی فریدہ خانم سے لیتا رہتا ہوں۔ اس کو ایک عام قاری فرض کرتے ہوئے میں اپنی اکثر تحریریں پیشگی طور پر اس کو دکھاتا ہوں۔ اس سے خطوط کے جواب لکھواتا ہوں۔ نئے خیالات پر اس سے گفت گو کرتا ہوں۔ اس طرح ایک طرف مجھے ایک "عام قاری" کے رد عمل کا پیشگی اندازہ ہوتا رہتا ہے ۔ اور دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ اس عمل کے دوران خود فریدہ خانم کی ذہنی تربیت ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ اب میرا خیال ہے کہ میرے مشن کو جتنے زیادہ فریدہ خانم نے سمجھا ہے غالباً کسی اور نے نہیں سمجھا ہے۔ نہ کسی مرد نے اور نہ کسی عورت نے۔ عربی کا ایک مقولہ ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page