Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ پلیٹ ڈاؤن میں جس کو حقیقت کہہ کر کتابوں میں درج کر دیا گیا تھا بعد کو محض فریب (Forgery) ثابت ہوا۔ ۱۹۴۷ء کا واقعہ ہے۔ ہندوستان کے انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن ملک کی آزادی کے بارے میں ایک اہم اعلان کرنے والے تھے۔ بڑے بڑے سیاسی لیڈر برلا ہاؤس میں جمع تھے تا کہ وائسرائے کی تقریر برسن یکیں جمرات کو دس بجے ریڈیو پر ہونے والی تھی۔ مشہور صنعت کار مسٹر برلا بھی وہاں موجود تھے۔ وہ اپنے اوقات کے بے حد پابند تھے۔ ان کی زندگی میں ہر چیز کا ایک وقت مقرر تھا۔ رات کو وہ ہمیشہ آٹھ بجے سو جایا کرتے تھے۔ چنانچہ جب آٹھ بجے کا وقت ہو اتو مسٹر برلا لیڈروں کی مجلس سے اٹھ گئے اور یہ کہہ کر اپنے سونے کے کمرہ میں چلے گئے: ”وائسرائے کی تقریر میں کل صبح کے اخبار میں پڑھ لوں گا۔“ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی حقیقی اہمیت ہوتی ہے۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی اہمیت اضافی ہوتی ہے۔ آدمی اکثر اوقات دونوں کے فرق کو نہیں سمجھتا اور اضافی چیز کو وہ اہمیت دینے لگتا ہے جو صرف حقیقی چیز کو دینا چاہئے۔ وائسرائے کی تقریر بہ رات کو سننا صرف تسکین شوق کا مسئلہ تھا۔ ورنہ جہاں تک ضرورت کا سوال تھا، اس کو صبح کے اخبار میں پڑھنا بھی ویسا ہی تھا جیسا چند گھنٹے پہلے رات کو سننا۔ ۲۲ فروری ۱۹۸۲ء ۱۹۱۰ء میں دارالعلوم دیوبند کا ایک جلسہ دیوبند میں ہوا۔ اس جلسہ میں صاحبزادہ آفتاب احمد خاں سابق وائس چانسلر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) بھی شریک ہوتے تھے۔ اس وقت باہمی مشورہ سے یہ بات طے ہوئی تھی کہ دیوبند کے کچھ ہونہار طلبہ ہر سال جدید تعلیم کے لئے علی گڑھ بھیجے جائیں۔ اسی طرح علی گڑھ کے کچھ منتخب طلبہ دینی تعلیم کے لئے دیوبند بھیجے جائیں۔ مگر اس تجویز پر کبھی عمل نہ ہو سکا۔ موجودہ زمانہ میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ مسلم رہنماؤں نے ایک اچھی تجویز منظور کی مگر اس تجویز کو واقعہ بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا جا سکا۔ اس کے برعکس اسی مسلم قوم میں یہ منظر بار بار دکھائی دیتا ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page