Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم رہنما کسی جذباتی ایشو پر کوئی بات طے کرتے ہیں اور پھر خود بھی اس پر چل پڑتے ہیں اور ان کے ساتھ بے شمار عوام بھی۔ اس کا راز یہ ہے کہ جذباتی ایشو پر دوڑنا سب سے آسان کام ہے اور تعمیری ہم کو لے کر چلنا سب سے مشکل کام ۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیری ہم کے حصہ میں صرف لوگوں کے الفاظ آتے ہیں اور جذباتی ہم کے حصہ میں لوگوں کا عمل۔ ۲۴ فروری ۱۹۸۴ انسان دولت پا کر سمجھتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پا لیا جو اسے پانا چاہئے تھا۔ مگر بہت جلد موت آکر اس کے اس خیال کی تردید کر دیتی ہے۔ جو دولت اتنے کم وقت تک انسان کا ساتھ دے وہ کبھی انسان کا ”سب کچھ نہیں ہو سکتی ۔ انسان کا سب کچھ وہی چیز ہو سکتی ہے جو ابدی طور پر اس کا ساتھ دے ، اور ایسا ساتھ دینے والا خدا کے سوا کوئی اور نہیں۔ فرعون کی مومن بیوی نے آخر وقت میں دعا کی تھی : رب ابن لی عندك بيتاً في الجنة (خدایا، میرے لئے جنت میں اپنے پاس ایک گھر بنادے۔) فرعون کی بیوی (آسیہ) مصر کے شاہی محل میں تھیں۔ مگر ان کو محسوس ہوا کہ یہ عمل عارضی ہے۔ آج یا کل بہر حال وہ چھن جائے گا۔ مستقل محل وہی ہو سکتا ہے جو اللہ کے پڑوس میں بنے۔ جو شخص اس حقیقت کا ادراک کر لے اس کی زبان سے وہی دعا نکلے گی جو ملکہ مصر کی زبان سے نکلی۔ ۲۴ فروری ۱۹۸۴ با جماعت نماز ہورہی ہو اور امام کوئی غلطی کر جائے تو مقتدیوں کے لئے لقمہ دینا عین جائز ہے ۔ اگر لقمہ صحیح ہے تو امام کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس کو قبول کرے۔ لیکن اگر کوئی ایسا شخص لقمہ دے جو نماز میں شریک نہ ہو اور امام اس کو قبول کر لے تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اکثر فقہا ء کے نزدیک اس کا دہرانا ضروری ہوگا۔ یہ صرف ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ زندگی کا عام قانون ہے ۔ ایک شخص جس کی کمائی میں آپ شریک نہ ہوں اس کے خرچ کے بارے میں بھی آپ اس کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ ایک ادارہ جس کی تاریخ آپ نے نہیں بنائی ، اس کے نہج میں تبدیلی لانا آپ کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ایک تحریک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page