Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

جس کو آپ نے چلایا نہ ہو اس کے رخ کو بدلنا آپ کے بس میں نہیں ہے۔ ایک ملک جس کی ترقی میں آپ کا خون اور پسینہ شامل نہ ہو اس کے مستقبل کے بارہ میں آپ کی خواہشیں قابل لحاظ نہیں ہو سکتیں ۔ ایک صاحب نے مذکورہ فقہی مسئلہ پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آخر اس شدت کی کیا ضرورت ہے۔ باہر کا بھی ایک شخص اگر صحیح نکتہ دے تو اس کو قبول کر لینا چاہئے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے یہ بات کہی۔ ۲۵ فروری ۱۹۸۴ مسلمانوں کی جدید تاریخ میں غالباً سر سید پہلے قابل ذکر شخص ہیں جنھوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا: " سب ترقی کی جڑ یہی ہے کہ سب سے پہلے علم کے خزانوں کو اپنے قابو میں کر لو “ (لیکچروں کا مجموعہ، صفحہ ۳۸ ) جس وقت سر سید نے یہ بات کہی اس وقت مسلمانوں کے تمام اکابر انگریزوں کے خلاف جنگ میں مشغول تھے۔ انگریز سے نفرت اسلام و ایمان کا معیار بنا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرسید کی یہ بات لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی۔ سرسید کے بارہ میں کہا گیا کہ وہ انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔ انگریز نے ان کو اس لئے کھڑا کیا ہے تاکہ قوم کی توجہ سیاسی محاذ سے ہٹا دیں ۔ جب مزاج بگڑا ہوا ہو تو صحیح بات بھی آدمی کو غلط صورت میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ ۲۶ فروری ۱۹۸۴ ایک عالم نے ایک بار فتویٰ دیا : المسح علی الخفین واجب ( خفین پر مسح کرنا واجب ہے ) یہ ایک غیر معمولی فتویٰ تھا۔ کیوں کہ خفین پر مسح رخصت ہے نکہ واجب۔ پھر انہوں نے ایسا کیوں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ عالم کے زمانہ میں لوگوں میں یہ ذہن پیدا ہو گیا تھا کہ خفین پر مسح خلاف اولیٰ ہے، اس لئے انھوں نے مسح کرنا چھوڑ دیا تھا۔ یہ ذہن شرعی اعتبار سے درست نہیں۔ اس لئے مذکورہ عالم نے اس ذہن کی تصحیح کے لئے رخصت کے حکم کو واجب کے الفاظ میں بیان کیا۔ یعنی جب لوگوں میں خدا کی دی ہوئی رخصت سے کراہت پیدا ہو جائے تو اس وقت رخصت پر عمل کرنا لازم ہو جاتا ہے تاکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page