Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

اس غلط ذہن کی اصلاح ہو۔ یہ حالات کے اعتبار سے کسی چیز پر زیادہ زور دینے کی مثال ہے، اور مصلح کو ہمیشہ ایسا کرنا پڑتا ہے۔ فقیہہ مسئلہ کو صرف مسئلہ کے اعتبار سے بیان کرتا ہے۔ مگر جو شخص مصلح ہو وہ مسئلہ کے ساتھ حالات کو بھی دیکھتا ہے۔ حالات کی رعایت سے کبھی وہ ایک چیز پر زیادہ زور دیتا ہے اور کبھی ایک چیز پر۔ ۲۷ فروری ۱۹۸۴ مولانامفتی محمد شفیع صاحب کی ایک عربی کتاب ہے جس کا نام ہے: كشف العناء عن وصف الغناء اس کتاب کا اردو ترجمہ ” اسلام اور موسیقی “ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس اردو ترجمہ پر اس کے مترجم مولانا محمد عبد المعز صاحب کا مفصل دیباچہ ہے۔ اس دیباچہ میں وہ لکھتے ہیں: ” خدا کے حکم میں حکمتیں تلاش کرنا نصف ایمانی کی دلیل ہے۔ علم اسرار و حکم قرون اولیٰ میں ناپید تھا “ ، صفحہ ۵۷ قرون اولیٰ میں مصنوعی باریکیاں نکالنے کا بے شک رواج نہ تھا۔ مگر کلام الہی میں جو فطری حکمت چھپی ہوئی ہے اس کی تلاش دور نبوت سے لے کر بعد کے ہر زمانہ میں جاری رہی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے لئے قرآن میں تدبر کا حکم دیا گیا ہے۔ دین میں موشکافیاں کرنا اور مصنوعی قسم کی بے فائدہ باریکیاں نکالنا سب سے پہلے ایرانیوں نے شروع کیا۔ چونکہ عباسی خلفاء نے سیاسی اسباب کے تحت ایرانیوں کی حوصلہ افزائی کی تھی اس لئے یہ انداز بہت بڑھ گیا۔ جو لوگ خالص دینی مزاج رکھنے والے تھے ان کو اس قسم کے دماغی مشغلے فضول معلوم ہوئے۔ انہوں نے اس کے خلاف ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ مگر یہ بہت بڑا ظلم ہو گا کہ فطری حکمت اور مصنوعی باریکیوں میں فرق نہ کیا جائے اور دونوں کو یکساں طور پر ناپسندیدہ قرار دیا جائے۔ فطری حکمت اضافہ ایمان کا ذریعہ ہے جبکہ مصنوعی باریکیاں صرف دماغی ورزش ہیں۔ ٹیپو سلطان ( ۱۹۹-۱۷۹۹، ۱) کے بارہ میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۳) میں یہ الفاظ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page