ڈائری
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
لکھے ہیں : He was exceptional for having never allied himself with the English against any other Indian ruler. (IX/1025). سلطان ٹیپو نے ۱۷۸۹ ء میں انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کا آغاز کیا۔ انھوں نے عرب، کابل، قسطنطنیہ ، فرانس، ارشینق اپنے سفیر بھیجے تاکہ انگریزوں کے خلاف ان کا تعاون حاصل کریں۔ مگر کسی سے ان کو مدد نہیں ملی۔ انھوں نے ہندوستانی راجاوں اور نوابوں سے گفت گو کی مگر کوئی ان کا ساتھ نہ دے سکا۔ ۴ مئی ۱۷۹۹ ء کو وہ انگریزوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ عجیب بات ہے کہ یہی کہانی دوبارہ "ریشم خطوط کے قائدین" نے دہرائی جس کے رہنما مولا نا محمودسن دیوبندی تھے ۔ انھوں نے بھی عرب، ترکی، افغانستان اور دوسرے ملکوں میں اپنے نمائندے بھیجے اور ان سے انگریز کے خلاف مدد کی ناکام درخواست کی۔ کیسے عجیب تھے وہ لوگ جن کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ جو بیرونی ممالک ایک ریاست کے حکمران (سلطان ٹیپو) کو مدد دینے پر راضی نہ ہوئے وہ عین اسی معاملہ میں مدرسہ کے علما کو مدد دینے کے لئے راضی ہو جائیں گے۔ بریں عقل و دانش باید گریست ٹیپو سلطان نہایت بہادر اور با عزم انسان تھا۔ اس کا مشہور قول اس کی سیرت کی مکمل تصویر ہے کہ "گیڈر کی سوسال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کی خاص سیاست یہ تھی کہ جہاں وہ دیکھتے کہ دو ریاستوں میں کوئی اختلاف ہے تو وہ ایک کا ساتھ دے کر دونوں کو لڑا دیتے اور اس طرح اپنے لئے زمین ہموار کرتے ۔ مگر ٹیپو واحد حکمراں تھا جو کسی کے خلاف انگریزوں کا ساتھ تھی نہ بن سکا۔ سخت دشواریوں کے باوجود ٹیپو انگریزوں سے لڑتا رہا ۔ انگریزوں کا عام طور پر یہ احساس تھا کہ برصغیر میں ان کے راستہ کی اصل رکاوٹ ٹیپو ہے۔ چنانچہ ۴ مئی ۱۷۹۹ ء کو جب ٹیپو انگریزوں کے خلاف لڑتا ہوا مارا گیا تو جنرل ہیرس (Haris) خوشی سے اچھل پڑا۔ اس نے چلا کر کہا کہ آج ہندوستان ہمارا ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader