ڈائری
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم مارچ ۱۹۸۳ دو مسلم نوجوان ملنے کے لئے آئے۔ انھیں روزگار کی تلاش تھی۔ میں نے کہا کہ روزگار حاصل کرنے کا از صرف ایک ہے: آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیں۔ آج ہر ادارہ اور ہر کاروبار میں کارکنوں کی ضرورت ہے، ایسے کارکن جن میں محنت اور دیانت داری کی صفت ہو۔ اگر آپ فی الواقع یہ دونوں صفت اپنے اندر پیدا کر لیں تو آپ لوگوں کی ضرورت بن جائیں گے۔ پھر روزگار آپ کے پیچھے دوڑے گا، آپ کو روزگار کے پیچھے دوڑنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ ۲ مارچ ۱۹۸۳ انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو موت سے بچاسکے۔ انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیشی سے بچاسکے۔ انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاسکے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا اصلی معجزہ چھپا ہوا ہے۔ انسان اگر اپنے اس عجز کو جانے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے ۔ کل کے دن عاجز ہونے والا آج ہی اپنے آپ کو عاجز محسوس کرنے لگے۔ وہ سرکشی کے بجائے حق پرستی کا طریقہ اختیار کر لے۔ ۳ مارچ ۱۹۸۳ ہندوستان کے سابق وزیر داخلہ مسٹر گلزاری لال نندا نے ۵ دسمبر ۶۳ کو احمد آباد میں ایک تقریر کی تھی۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ دو سال کے اندر میں بد دیانتی، رشوت خوری اور بد عنوانی کو ختم کر دوں گا۔ اس عرصہ میں میں عوام کو ایسا ایڈمنسٹریشن دوں گا جو صاف ستھرا اور فعال ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں اپنے دعوے میں کامیاب نہیں ہوا تو میں وزارت سے استعفا دے دوں گا۔ یہی بات دوبارہ انھوں نے ۲ جنوری ۶۴ کو دہلی کے ایک جلسہ میں دہرائی۔ یہ وہ وقت ہے جب کہ جواہر لال نہرو اور دوسرے ابتدائی کانگریسی لیڈر حکومت میں موجود تھے مگر واقعات بتاتے ہیں کہ گلزاری لال نندا اپنے منصوبہ میں ایک فیصد بھی کامیاب نہیں ہوئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader