ڈائری
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
بلکہ ۱۹۶۳ میں ہندوستان میں جتنا کرپشن تھا، اب ۲۰ سال بعد اس میں بے شمار گنا زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ سماجی بگاڑ کو صرف حکومت کی طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے ایک درجہ کی سماجی اصلاح بھی ناگزیر بطور پر ضروری ہے۔ اس حقیقت سے مسٹر گلزاری لال نندا جتنے نا واقف تھے، اتنا ہی نا واقف وہ مسلم لیڈر بھی ہیں جو موجودہ زمانہ میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا جھنڈا اٹھاتے ہوئے ہیں۔ ۴ مارچ ۱۹۸۳ کچھ برائیاں وہ ہیں جنہیں صرف دیکھنا“ پڑتا ہے۔ اور کچھ برائیاں وہ ہیں جن کو بھگتنا“ پڑتا ہے۔ جو شخص موجودہ دنیا میں کامیاب ہونا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ دونوں میں فرق کرے۔ جو برائیاں اس سے دور ہیں اور جن کو وہ صرف دیکھ رہا ہے ان کو وہ نظر انداز کرے وہ صرف ان برائیوں کو اپنے لئے مسئلہ بنائے جن کو اسے بھگتنا ہی پڑ رہا ہو۔ آدمی اگر دونوں قسم کی برائیوں کو یکساں اہمیت دینے لگے تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ۵ مارچ ۱۹۸۳ مغرب کی نماز کے لئے وضو کر کے غسل خانہ سے نکلا تو موت کو سوچ کو بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ زبان پر یہ دعا جاری ہوگئی : خدا یا! زندگی بہر حال ایک روز ختم ہونے والی ہے۔ اور جو چیز ختم ہونے والی ہے وہ گویا آج ہی ختم ہوگئی۔ خدا یا! مجھے بخش دیجئے ، خدا یا! مجھے بخش دیجئے ، خدا یا! مجھے بخش دیجئے۔ ۶ مارچ ۱۹۸۳ بلند شہر کے ایک صاحب ملنے کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بزنس کرتے ہیں اور اب وہ ایکسپورٹ کے کام میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ایک معاملہ میں مشورہ لینا چاہتا ہوں۔ میرے یہاں ایک امام صاحب ہیں وہ جن بھوت اتارنے کا کام کرتے ہیں۔ اس کام کو انھوں نے با قاعدہ تجارت بنا لیا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader