Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

اور بہت منظم طریقہ پر لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ میں اس کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں اور اس کو اپنے یہاں سے ختم کر دینا چاہتا ہوں۔ مگر امام صاحب کے ساتھ کئی دادا قسم کے لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ امام صاحب کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دادا لوگوں سے لڑائی مول لی جائے۔ میں نے کہا کہ ان حالات میں اگر آپ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس سے صرف شر پھیلے گا اور کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ دوسری طرف آپ یقینی طور پر اپنا کاروبار اور بھاری نقصان کر لیں گے۔ میں نے کہا کہ زندگی میں ایک کام کو کرنے کے لئے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کو کلکتہ جانا ہے تو آپ کو امرتسر کی گاڑی چھوڑنی پڑے گی۔ اسی طرح اگر آپ بزنس کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو جگہ ارادتی سے اپنے آپ کو الگ کرنا ہوگا۔ آپ کو اگر امام صاحب کا درجہ ہے تو ان کو تنہائی میں سمجھائیے ۔ اور اگر وہ سمجھانے سے مانیں تو ان کے حق میں خدا سے دعا کیجئے، بس یہ آپ کی آخری حد ہے۔ اس سے آگے آپ کو جانے کی ضرورت نہیں۔ ۷ مارچ ۱۹۸۴ ہندوستان کی سابق وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۱ کو ایک انٹرویو دیا تھا یہ انٹرویو آسٹریلیا کے براڈ کاسٹنگ کمیشن کے ٹیلی وژن پروگرام کے تحت تھا۔ انٹرویو رنے ایک سوال یہ کیا تھا کہ کیا آپ پسند کریں گی کہ آپ مزید 9 سال تک حکومت میں رہیں، جیسا کہ آپ ۱۹۶۶ سے ہیں۔ یہ سن کر مسز اندرا گاندھی نے کہا: If anybody knows how hard my life is, one should not even think of asking such question. اگر کسی معلوم ہو کہ میری زندگی کتنی سخت ہے تو وہ مجھ سے اس قسم کا سوال کرنے کا خیال دل میں نہ لائے۔ (لا ہندوستھان ٹائمس ۲۹ اکتوبر ۱۹۸۵) جن گدیوں کو لوگ رشک کی نظر سے دیکھتے ہیں وہ گدیاں خود بیٹھنے والوں کے لئے کانٹوں کا بستر ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جاہ پسندی واحد چیز ہے جو لوگوں کو ان گدیوں پر بٹھائے رکھتی ہے۔ اگر جاہ پسندی کا مزاج نہ ہو تو اونچی گدیوں پر بیٹھنے والے اپنی گدیوں کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page