ڈائری
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عرب مفکر کا قول ہے : رجل ذو همة يحيي الامة (ایک با ہمت آدمی پوری قوم کو زندہ کر دیتا ہے) میرے نزدیک یہ بہت صحیح بات ہے۔ یہ دراصل افسراد ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ تاہم اس قول میں ایک بات چھوٹ گئی ہے۔ وہ یہ کہ با ہمت آدمی کو ہمیشہ کچھ باہمت ساتھی درکار ہوتے ہیں۔ کوئی ایک شخص خواہ وہ کتنا ہی زیادہ حوصلہ مند ہو اور کتنا ہی زیادہ لائق ہو لیکن اگر اس کو اچھے ساتھی ملیں تو وہ کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں کر سکتا۔ پیغمبروں کی تاریخ اس کے ثبوت کے کافی ہے۔ ۹ مارچ ۱۹۸۲ ایک نوجوان نے پوچھا کہ مضمون نگار بننے کا طریقہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مضمون نگاری مشکل ترین آرٹ ہے۔ آدمی ایک عمر لکھنے اور پڑھنے میں لگا دیتا ہے تب اس کو مضمون لکھنا آتا ہے۔ بازار میں بہت سی کتابیں چھپی ہوتی ملتی ہیں جن کا ٹائٹل ہوتا ہے "مضمون کیسے لکھیں" مگر میرا خیال ہے کہ اس قسم کی کتابیں وہی لوگ لکھتے ہیں جو خود بھی مضمون لکھنا نہیں جانتے۔ کوئی بھی شخص جو حقیقی معنوں میں مضمون لکھنا جانے گا وہ اس قسم کی کتابیں کبھی نہیں چھاپے گا۔ مضمون نگاری کار از صرف مضمون نگاری ہے۔ آدمی پڑھے اور لکھے۔ آدمی پڑھے اور لکھے۔ اسی طرح وہ ۲۰ سال تک کرتا رہے تو انشاء اللہ اسے مضمون لکھنا آجاۓ گا۔ بشرطیکہ اس کے اندر اس کی فطری صلاحیت بھی موجود ہو۔ ۱۰ مارچ ۱۹۸۲ ”باپ دادا کا دھرم رائی سمان اور دوسرے کا دھرم پربت سمان ہو تب بھی باپ دادا کا دھرم نہ چھوڑو۔ یہ اصول بہت سے لوگوں کے نزدیک نہایت اہم ہے۔ وہ دھرم کی جس لکیر کو پیٹے ہوۓ ہیں۔ اس پر بالکل غور کرنا نہیں چاہتے۔ صرف اس لئے کہ یہ دھرم انھیں اپنے باپ دادا سے ملا ہے۔ مگر یہ اصول صرف دھرم اور مذہب کے معاملہ میں اختیار کیا جاتا ہے نہ کہ تمام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader