ڈائری
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملات میں ۔ مثلاً اگر کسی شخص کو اپنے باپ دادا سے عقبیٰ اور مقامی کی وراثت ملی ہو تو وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ باپ دادا کی معاشی حالت پر پڑا رہے اور نئے ذرائع حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے ، حقیقت یہ ہے کہ اس نظریہ کے پیچھے کوئی منطق نہیں ، یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دنیا کے معاملات میں تو سنجیدہ ہے مگر خدا اور مذہب کے معاملہ میں وہ سنجیدہ نہیں۔ ۱۱ مارچ ۱۹۸۳ ایک صاحب نے کہا کہ آپ الرسالہ میں اپنی تعریف چھپاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جس نے الرسالہ کو پڑھا نہ ہو۔ اور نہ وہ مجھ سے واقف ہو۔ میں نے کہا کہ یہ اللہ کا فضل ہے کہ سچائی میری اپنی دریافت ہے۔ میں سنی سنائی باتیں نہیں لکھتا بلکہ وہ باتیں لکھتا ہوں جو میری اپنی دریافت ہوتی ہیں۔ اور جو شخص خود اپنی دریافت کردہ سچائی پر کھڑا ہو اوہ کبھی کسی کی تعریف کا محتاج نہیں ہوتا۔ ایسا انسان اپنے آپ میں جیتا ہے۔ اس کی دریافت ہی اس کی تسکین کے لئے کافی ہوتی ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ مجھے نہ کسی کی تعریف سے خوشی ہوتی ہے اور نہ کسی کی تنقید پر غم۔ البتہ اگر کوئی شخص غیر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتا ہے تو اس پر ضرور دکھ ہوتا ہے کہ یہ شخص حقیقت کے خلاف انداز کیوں اختیار کر رہا ہے، جب کہ ایسا انداز اس کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ ۱۲ مارچ ۱۹۸۳ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الرسالہ کی کافی تعریف کی۔ میں نے کہا کہ الرسالہ کا معاملہ ایک ذمہ داری کا معاملہ ہے نہ کہ تعریف کا معاملہ ۔ آپ اگر الرسالہ سے متفق ہیں تو اس کی ایجنسی لیجئے اور اس کو پھیلائیے۔ میں نے کہا کہ اس وقت سب سے پہلا کام یہ ہے کہ قوم کو سمجھ دار بنایا جائے ۔ اسی کو قرآن میں ”تزکیہ“ کہا گیا ہے ( ویز کیھم) تزکیہ کا مطلب اسلامی اعتبار سے وہی ہے جس کو آجکل کی زبان میں ایجوکیٹ کرنا کہتے ہیں۔ یہی وہ کام ہے جس کو الرسالہ کے ذریعہ انجام دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ایجنسی کی اہمیت سے اتفاق کیا۔ مگر کہا کہ گھر واپس جاکر خط لکھوں گا۔ میں نے کہا کہ اس قسم کے معاملات ملتوی نہیں کئے جاتے ۔ ان کو فوراً شروع کر دیا جاتا ہے۔ انگریزی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader