Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

لا تجادل احمق فيصعب على الآخرين تمييز أيهما الأحمق۔ بے وقوف سے جھگڑا نہ کرو کہ دوسروں کو یہ پہچاننا مشکل ہو جائے کہ دونوں میں سے کون بے وقوف ہو۔ ایک آدمی جھگڑے کی بات کرے اور دوسرا آدمی برداشت کرکے جھگڑے سے الگ ہو جائے۔ تو دونوں میں فرق نظر آئے گا۔ ایک جھگڑے کرنے والا ہوگا اور دوسرا چپ رہنے والا۔ یہ فرق دونوں کے اخلاقی فرق کو لوگوں کے سامنے نمایاں کر دے گا۔ لوگ اپنے آپ پہچان لیں گے کہ کون شریف ہے اور کون غیر شریف۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایک شخص جھگڑا شروع کرے اور پھر دوسرا شخص بھی اس سے جھگڑنے لگے تو دونوں کی حالت برابر ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں تدریتی طور پر ایسا ہوگا کہ لوگ دونوں کو یکساں سمجھنے لگیں گے۔ ۳ فروری ۱۹۸۳ اگر کوئی شخص کہے کہ میں پانی کے بجائے پٹرول پیوں گا ، یا یہ کہ میں دریا میں کشتی کے بغیر چلوں گا تو عقلمند آدمی ایسے شخص کو فوراً منع کرے گا۔ کیوں کہ یہ اس قانون کے خلاف ہے جو قدرت نے اس دنیا کے لئے مقرر کیا ہے۔ قدرت کا مقرر کیا ہوا طریقہ یہ ہے کہ ہم پانی سے اپنی پیاس بجھائیں اور کشتی کے ذریعہ دریا کو پار کریں۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو صد فی صد اسی قانون قدرت کی پیروی کرنی ہے۔ جو شخص اس کے خلاف چلے گا اس کے لئے ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا ہے۔ اس دنیا میں انسان کے لئے کامیابی حاصل کرنے کا ایک مقررہ طریقہ ہے۔ یہ طریقہ کائنات کی سطح پر قائم ہے۔ انسان کو بھی اس کی پیروی کرنی ہے۔ یہ طریقہ ایک لفظ میں (Conversion) ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز کنورزن کے اصول پر ترقی کرتی ہے۔ یعنی ادنیٰ کو اعلیٰ میں کنورٹ کرنا۔ سورج کیا ہے ، سورج غیر روشن مادہ کو روشن مادہ میں کنورٹ کرنے کا دوسرا نام ہے۔ ایک درخت کب سر سبز درخت بنتا ہے۔ اس وقت جب کہ وہ اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ وہ پانی اور مٹی اور معدنیات جیسی غیر نباتی چیزوں کو نباتی چیز میں کنورٹ کر سکے۔ وہ مٹی کو پتی اور پھول پھل جیسی چیزوں میں تبدیل کر سکے۔ یہی حال جانوروں کا ہے۔ گائے گھاس کھاتی ہے اور گھاس کو دودھ میں کنورٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page