Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

بارش شکست کا سبب۔ بدر کے موقع پر یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مسلمان وادی کے بالائی حصہ پر تھے۔ بارش نہ ہوتی تو وہاں ریت جم گئی، اور جس زمین میں پہلے خشک ریت کی وجہ سے پاؤں دھنس رہے تھے وہ اتنی مضبوط ہوگئی کہ پاؤں اچھی طرح جم سکیں۔ دوسری طرف دشمن کا نشیب کی طرف تھا۔ چنانچہ وہاں بارش کے نتیجہ میں کیچڑ اور دلدل ہوگئی اور چلنا اور حرکت کرنا دشوار ہوگیا۔ مسلمانوں کے ساتھ اس معاملہ کا ذکر قرآن میں ان لفظوں میں آیا ہے: (ويثبت به الاقدام الانفال 11) واٹرلو کا معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ وہاں ۱۷ اور ۱۸ جون کی درمیانی شب میں بارش ہوئی یہ جنگ نپولین (فرانس) اور ولنگٹن (پروشیا) کے درمیان تھی۔ نپولین اس سے پہلے ولنگٹن کو کافی نقصان پہنچا چکا تھا۔ اور مورخین کے مطابق ۱۸ جون کا مقابلہ فیصلہ کن طور پر نپولین کے حق میں ہوتا۔ مگر رات کی شدید بارش کی وجہ سے نپولین نے محسوس کیا کہ زمین جنگ کے قابل نہیں ہے۔ اس نے دو پہر تک انتظار کیا تاکہ زمین سوکھ جاتے۔ یہ تاخیر نپولین کے لئے الٹی ثابت ہوئی۔ اس درمیان میں انگریز جنرل بلوشر (Blucher) ولنگٹن کی حمایت میں بڑی فوج لے کر آگیا۔ اس کے بعد جب لڑائی ہوئی تو نپولین کمزور در ثابت ہوا اور اس کو شکست ہوگئی۔ (برٹانیکا جلد ۷، صفحہ ۳۲۷) یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اصل اہمیت اسباب کی نہیں بلکہ فیصلہ خدا وندی کی ہے۔ ایک ہی قسم کے اسباب ایک شخص کے لئے کامیابی کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور اسی قسم کے اسباب دوسرے شخص کے لئے ناکامی کا قبرستان۔ ۱۶ مارچ ۱۹۸۴ حضرت عمر کا ایک قول ہے، وہ اکثر اپنے اس قول کو دہرایا کرتے تھے: (خوف ما اخاف عليكم اعجاب المرء برآيه (سب سے زیادہ میں جس چیز سے تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں، وہ ہے آدمی کا اپنی رائے کو پسند کرنا) اپنی رائے کو رائے سمجھنے کا مزاج ہلاکت کی بدترین قسم ہے۔ جس شخص کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے وہ بس اپنے خیالات میں گم رہتا ہے۔ اس کو اپنے سے باہر کی صداقت کا علم نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page