ڈائری
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
حق کی پیروی کر رہا ہوں، حالانکہ وہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں معاملے کی سچائی تک پہنچ گیا ہوں حالانکہ وہ صرف اپنی ادھوری رائے میں بیشک رہا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے ذہنی خول سے باہر نکلنا ہی نجات اور کامیابی کا آغاز ہے۔ جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نہ نکلیں ان کا ذہنی خول ان کے لئے قبرستان بن کر رہ جاتا ہے۔ ۱۷ مارچ ۱۹۸۴ کہا جاتا ہے کہ بایزید بسطامی (م ۲۶۱ھ) پہلے صوفی ہیں جنھوں نے معراج کے واقعہ کو سالک کے لئے ایک نصب العین کی حیثیت سے پیش کیا۔ وہ خود بھی اسراء کی کیفیت سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ان کو آسمان پر پرواز و حال کی تجربہ ہوا ہے۔ جہاں انھوں نے جنت اور دوزخ کا نظارہ کیا ہے۔ شجرۂ توحید چشم خود دیکھا ہے اور قرب الہی کی منزلیں طے کی ہیں۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کراللہ سے علم لینے کا شرف بھی انھیں حاصل ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بایزید بسطامی کی طرف یہ انتساب درست نہ ہو، تاہم یہ حقیقت ہے کہ تصوف کی ساری دھوم اسی قسم کے پر اسرار عقائد کی بنا پر ہے۔ بعد کے دور میں امت میں جو سب سے بڑا انحراف پیش آیا وہ یہ تھا کہ کسی بات کو جانچنے کا معیار کتاب وسنت نہ رہا بلکہ بزرگوں کے واقعات اور ملفوظات اس کا معیار بن گئے۔ یہی وہ انحراف تھا جس نے بے شمار قسم کی خرافات کو مسلمانوں کے اندر داخل کر دیا۔ ۱۸ مارچ ۱۹۸۳ ۱۹ء میں احمد آباد گیا تھا۔ وہاں ایک مدرسہ نے اپنے سالانہ اجلاس میں مجھ کو صدر کی حیثیت سے بلایا تھا۔ جلسہ میں کافی لوگ آئے مگر تبلیغی جماعت کا حلقہ میری تقریر میں شریک نہیں ہوا۔ بعد کو خود تبلیغ والوں نے اپنی مسجد میں ایک پروگرام رکھا۔ وہاں انھوں نے اہتمام کے ساتھ کھانے کی دعوت کی اور میری تقریر ریکارڈ کی جس میں احمد آباد کا پور تبلیغی حلقہ شریک ہوا۔ اس وقت انھوں نے بتایا کہ تبلیغ والے کیوں آپ کے جلسے میں شریک نہیں ہوتے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم کو یہ خبر دی گئی کہ آپ داڑھی نہیں رکھتے۔ ہم نے سوچا کہ جو مولوی داڑھی نہ رکھتا ہو اس کی بات سننے سے کیا فائدہ۔ مگر بعد کو ہمارے کچھ آدمیوں نے آپ کو دیکھا اور یہاں آکر بتایا کہ ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader