Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

چہرہ پر ٹوپوری داڑھی ہے۔ جب تحقیق ہوگئی کہ آپ واقعی داڑھی رکھتے ہیں تو ہم نے یہ پروگرام بنایا۔ تبلیغ کے ایک آدمی نے کھلنے کے دستر خوان پر یہ واقعہ بیان کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر کتنی غلط باتیں مشہور ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے قرآن میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ کسی کے بارے میں اگر کوئی غلط خبر ملے تو اس وقت تک اس کو نہ مانو جب تک اس کی تحقیق نہ کر لو۔ سنی ہوئی بات کی تحقیق ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو بات کو سن کر بھول جائے اور اس کو دوبارہ کسی سے بیان نہ کرے ۔ مگر جو شخص سنی ہوئی بات کو بیان کرے اس پر فرض ہے کہ وہ بیان کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرے۔ ۱۹ مارچ ۱۹۸۴ ما اکل احد طعاماً قط خیراً من ان یأکل من عمل یدۃ (حدیث) سب سے بہتر کھانا وہ ہے جو کوئی شخص اپنے ہاتھ کی محنت سے کھائے۔ محنت کی روزی بلا شبہ سب سے بہتر روزی ہے۔ اس میں بے شمار فائدے ہیں جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عمل ید یا ہاتھ کے عمل سے اپنی روزی پیدا کر رہا ہو۔ یعنی خود مزدوری کرے اور پھر اس سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ یہ اس حدیث کا براہ راست لفظی مفہوم ہے۔ تاہم دماغی محنت بھی بالواسطہ طور پر اس میں شامل ہے۔ جس طرح حدیث میں ”اکل“ سے مراد لفظی طور پر صرف کھانا نہیں ہے بلکہ عمل ید کے ذریعہ حاصل شدہ رقم سے وہ اپنی ضرورت بھی پوری کرے وہ سب اس میں شامل سمجھا جائے گا۔ اسی طرح خود ”عمل ید“ کا بھی ایک تو سیعی مفہوم ہے اور اس کے اعتبار سے اس میں ہر وہ کوشش شامل ہے جو آدمی جائز طور پر کرتا ہے یا کر سکتا ہے۔ ۲۰ مارچ ۱۹۸۴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک لڑائی میں ایک سلمان کے سر پر زخم آگیا اتفاق سے اس کو غسل کی حاجت پیش آئی۔ ایسی حالت میں پانی سر پر استعمال کرنا مہلک تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ ساتھیوں نے کہا کہ پانی کی موجودگی میں ہم تمہارے لئے کوئی گنجائش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page