Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں پاتے۔ چنانچہ اس مسلمان نے اسی زخم کی حالت میں پانی سے غسل کیا اور اس کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا : قتل وہ قتلہم اللہ ۔ انھوں نے اس کو مار ڈالا! اللہ انھیں ہلاک کرے۔ اس واقعہ سے دین کی روح معلوم ہوتی ہے۔ دین کے جو احکام ہیں ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر حال میں ان کی تعمیل کی جائے گی ، خواہ ان کی تعمیل ایک بے قصور انسان کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہو، حکم کی تعمیل اور انسانی جان میں اگر ٹکراؤ ہو جائے تو حسب حالات حدود شریعت کے اندر احکام میں تغیر کیا جائے گا تاکہ انسانی جان بچائی جاسکے۔ ۲۱ مارچ ۱۹۸۴ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مسلمانوں کو انفاق کی رغبت دلائی۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف نے چار ہزار دینار پیش کیا۔ عاصم بن عدی نے ایک سو وسق کھجوریں لا کر دیں۔ ایک غریب صحابی ابو عقیل جو محنت مزدوری کا کام کرتے تھے، انھوں نے دن بھر محنت کے دو صاع کھجور حاصل کی۔ اس میں سے ایک صاع کھجور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی اور ایک صاع اپنے گھر والوں کو دی۔ مدینہ میں جو منافق تھے انھوں نے ان دونوں ہی قسم کے مسلمان کے مذاق اڑایا، جنھوں نے زیادہ مال دیا تھا ان کے بارے میں کہا کہ انھوں نے نمود و نمائش کے لئے دیا ہے۔ اور جو لوگ کم دے سکے تھے ان کے بارے میں کہا کہ جب اس شخص کے پاس دینے کے لئے نہیں تھا تو اس کو کیا ضرورت تھی کہ اپنا نام دینے والوں میں لکھوائے۔ اس قسم کے عیب نکالنا منافقت ہے۔ منافقت کسی گزری ہوئی جماعت کا نام نہیں۔ ہر وہ شخص منافق ہے جس کے اندر منافق والی صفات پائی جائیں۔ اس واقعہ میں دوسرا سبق یہ ہے کہ مذاق اڑانے کی کوئی حد نہیں۔ ایک شخص اگر غیر سنجیدہ ہے تو وہ ہر بات کا مذاق اڑا سکتا ہے، خواہ وہ بات بذات خود کتنی ہی درست کیوں نہ ہو۔ جو شخص کسی کو غلط ثابت کرنے کے لئے اس کا مذاق اڑائے دہ خود اپنے آپ کو غلط ثابت کر رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page