ڈائری
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مدینہ کی مسجد میں تھے اور جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر ۳۶ آدمیوں کو نام لے کر پکارا اور فرمایا: اخرج فانك منافق (تم مسجد سے نکل جاؤ ، کیوں کہ تم منافق ہو۔) یہ واقعہ بتاتا ہے کہ منافقین کے بارہ میں جاننے کی آخری حد کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کو ان کی منافقت کی بنا پر کوئی جسمانی سزا نہیں دی اور شان کو قتل کرایا۔ آخری مرحلہ میں آپ نے صرف یہ کیا کہ ان کو نامزد کر کے مخلص مسلمانوں سے جدا کر دیا۔ پیغمبر کو قطعیات کے ساتھ معلوم ہو چکا تھا کہ کون منافق ہے اور کون منافق نہیں ہے۔ اس کے باوجود آپ نے کوئی مزید رود رواتی ان کے خلاف نہیں کی۔ پھر بعد کے لوگوں کو فتوا در ہی زیادہ اس کا پابند رہنا ہے کہ وہ کسی کو منافق قرار دے کر اس کے خلاف جارحانہ عمل کو اپنے لئے جائز نہ کریں۔ ۲۳ مارچ ۱۹۸۲ سورہ حج کی آیت ..... والقائمين والركع السجود کے تحت شاہ عبد القادر صاحب لکھتے ہیں : "پہلی امتوں میں رکوع نہ تھا۔ یہ خاص اسی امت محمدیہ کی نماز میں ہے:" اپنی امت کو افضل اور اکمل ثابت کرنے کے لئے لوگوں نے عجیب عجیب نظریے بنائے ہیں انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ حالانکہ حدیث اور قرآن سے یہ ثابت نہیں کہ پچھلی امتوں کی نماز رکوع کے بغیر ہوتی تھی۔ یہ بحث میرے نزدیک سراسر عبث ہے کہ ایک امت کو دوسری امت سے افضل اور اکمل ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس قسم کی کوشش اپنی ساری کامیابی کے بعد بالاآخر جو تحفہ دیتی ہے وہ بے مسلمانوں میں اسلام پر بے جا فخر اور دوسری قوموں میں اسلام سے بے جائو خش۔ الگزنڈر ڈیوما (Alexander Dumas) ۱۸۲۲ میں پیرس میں پیدا ہوئے اور ۱۸۹۵ میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ ایک کہانی نویس تھے۔ کہا جاتا ہے کہ الگزنڈر ڈیوما کا کوئی دوست

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader