Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر ان سے ملنے کے لئے آجاتا جب کہ وہ اپنی تخلیق میں محو ہوں ، تو وہ اس کو خوش آمدید کہنے کے لئے صرف اپنا بایاں ہاتھ بڑھا دیتے اور دائیں ہاتھ سے لکھنے کا کام بدستور جاری رکھتے۔ جب کسی آدمی کو ایک کام کی دھن ہو جائے تو اس کی مصروفیت کا عالم یہی ہو جاتا ہے ۔ اور جو لوگ اس طرح اپنے مقصد میں مصروف ہوں وہی کوئی بڑا کام کر لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۳ ایک حدیث ہے : مَا عَالَ مَنِ اَقْتَصَدَ ۔ یعنی جس شخص نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا۔ یہ چھوٹا سا فقرہ معاشی زندگی کا اہم ترین راز بتا رہا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ محتاجی سے بچنے کا راز معتدل خرچ میں ہے نہ کہ زیادہ آمدنی میں۔ آدمی اپنے خرچ پر کنٹرول نہ رکھے تو ہر آمدنی اس کے لئے کم ہو جائے گی۔ اور اگر وہ اپنے خرچ پر کنٹرول رکھے تو ہر آمدنی اس کی ضرورت کے لئے کافی ثابت ہوگی۔ ۲۶ مارچ ۱۹۸۳ قرآن میں پیغمبروں کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ لا اسئلكم عليه من اجر ۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں : ”یعنی تمہارے مال کی مجھے ضرورت نہیں۔ میرا پیدا کرنے والا ہی تمام دنیوی ضروریات اور اخروی اجر وثواب کا کفیل ہے۔ یہ بات ہر ایک پیغمبر نے اپنی قوم سے کہی تا کہ نصیحت بے لوث اور مؤثر ہو۔ لوگ ان کی محنت کو دنیوی طمع پر محمول نہ کریں ۔ تفسیر قرآن، ۲۹۴۰ مذکورہ عبارت میں "اخروی اجر و ثواب " کا لفظ محض تطبیق کے لئے شامل کیا گیا ہے۔ اس غیر ضروری تطبیق کو چھوڑ کر اس عبارت میں نہایت صحیح بات کہی گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دائی کو دنیوی اور مادی اعتبار سے بے غرض ہونا پڑتا ہے۔ مدعو کی نظر میں بے غرض بننے کے لئے اس کو ایک طرفہ قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس کے بغیر کسی کو دائی کا مقام ملنا ممکن نہیں۔ حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page