ڈائری
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
انشا اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ بظاہر یہ ایک قدیم واقعہ ہے۔ مگر یہ ایک مستقل حقیقت کو بتا رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے ہے کہ وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ حضرت اسماعیل نے ایک تاریخ بنائی۔ اسی طرح آج بھی اسماعیل جیسے لوگوں کی ضرورت ہے تاکہ دوبارہ اسلام کی تاریخ بنائی جاسکے۔ یہ کردار اسماعیل کیا ہے۔ وہ ہے اپنی ذات کو ہمہ تن مقصد اعلیٰ کے حوالے کر دینا۔ مقصد جو کچھ ہے اس کو کرنے کے لئے تیار ہو جانا، خواہ اس راہ میں اپنی ذات کو ذبیح کر دینا پڑے۔ ۲۸ مارچ ۱۹۸۴ مولا نا شبیراحمد عثمانی سورہ احزاب کی تفسیر میں خاتم النبین کی آیت کے تحت لکھتے ہیں: " بعض محققین کے نزدیک انبیا سابقین اپنے اپنے عہد میں بھی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت عظمیٰ ہی سے مستفید ہوتے تھے۔ جیسے رات کو چاند اور تارے سورج کے نور سے مستفید ہوتے ہیں۔ حالانکہ سورج اس وقت دکھائی نہیں دیتا۔ اور جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں اسی طرح نبوت ورسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی روح محمدی صلعم پر ختم ہوتا ہے۔ بدیہہ کہا کہ سکتے ہیں کہ آپ رتبی اور زمانی ہر حیثیت سے خاتم النبین ہیں۔ اور جن کو نبوت ملی ہے آپ ہی کی مہر لگ کر ملی ہے۔ تفسیر قرآن مولانا شبیراحمد عثمانی صفحہ ۵۵۰۔ عجیب بات ہے کہ قدیم علماء بڑی بڑی باتوں کو اسی طرح شانوں سے بیان کر دیتے ہیں۔ حالانکہ مثالوں سے کچھ ثنا بت نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ علم کی حدود نہیں جانتے۔ مذکورہ عبارت میں خاتم الانبیاء کی جو تشریح کی گئی ہے، اس کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث کی کوئی واضح دلیل درکار ہے۔ یہ دلیل بھی عبارت النص نکلنی چاہیے۔ اتنی بڑی بات کے لئے استنباطی نص بھی ناکافی ہے، کہا کہ اس کو قیاسی منطق یا مت والوں کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ سورج کی وہ حیثیت عالم افلاک میں نہیں ہے جو ”بعض محققین نے بتائی ہے۔ تا ہم اس سے قطع نظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader