ڈائری
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح کی مثال سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے ثبوت بننے کے لئے ضروری ہے کہ دعوی اور مثال میں ربط ثابت ہو اور دونوں کے درمیان ربط کا کوئی ثبوت نہیں۔ مثال ایسی چیز ہوتی ہے کہ اس کو جہاں چاہے جوڑ دیا جائے۔ ۲۹ مارچ ۱۹۸۴ء عرب کے ایک جاہلی شاعر نے کہا تھا : الا لا يجهلن احد علينا فنجهل فوق جهل الجاهلينا کوئی شخص ہرگز ہم پر جہالت نہ کرے، ورنہ ہم تمام جاہلوں سے بڑھ کر اس کے اوپر جہالت کریں گے۔ برائی کی یہ قسم ہر دور میں پائی جاتی رہی ہے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کو چھڑیئے تو ان کے اندر کا شیطان جاگ اٹھتا ہے۔ اگر آپ نے ان کے اوپر کٹکری پھینکی ہے تو وہ چاہیں گے آپ کے اوپر پتھروں کی بارش کرکے آپ کو نیست و نابود کردیں۔ ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ اعراض ہے۔ آپ صرف اعراض (اوائڈ) کرکے لوگوں کے شر اور جہالت سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آپ اعراض نہ کریں تو پھر لوگوں کے شر اور جہالت سے بچنا بھی آپ کے لئے ممکن نہیں۔ ۳۰ مارچ ۱۹۸۴ء ایک نوجوان ملنے کے لئے آئے۔ انھیں کام کی تلاش تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ الرسالہ کے دفتر میں کام کریں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کہاں تک ہوئی ہے تو انہوں نے بتایا ” الونتھ تک“۔ میں نے کہا کہ اپنے اس جملہ کو انگریزی میں کہئے کہ میں نے الونتھ تک پڑھاہے۔ انھوں نے کچھ دیر تک سوچا اس کے بعد بولے : I was read eleventh. میں نے کہا کہ یہ انگریزی نہیں، یہ اے بی سی ڈی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پھر اس کی انگریزی کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کو انگریزی میں کہنا ہو تو اس طرح کہیں گے : I have studied upto the eleventh standard.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader