Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

آجکل کے مسلم نوجوانوں کے بارہ میں میرا تجربہ نہایت تلخ ہے۔ انگریزی تو درکنار، اردو میں بھی ایک اچھا خط لکھنے کی توقع ان سے بہت کم کی جاسکتی ہے۔ الرسالہ کے دفتر کے لئے ہم عرصے سے ایک ایسے نوجوان کی تلاش میں ہیں جو اردو میں خطوط کا عمدہ جواب لکھ سکتا ہو، مگر اب تک ہمیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ یہی معاملہ ہنر کا ہے۔ الرسالہ کے دفتر کے لئے ایک انگریزی ٹائپسٹ عرصہ سے تلاش کیا جارہا ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ ہند اور عیسائی ٹائپسٹ تو آسانی مل جاتے ہیں۔ مگر کوئی اچھا مسلم ٹائپسٹ ابھی تک نہیں ملا۔ یکم اپریل ۱۹۸۴ قدیم نثریپرتھیلات سے بھرا ہوا ہے ۔ قدیم زمانہ کے علماء اکثر مثالوں کے ذریعہ بات کہا کرتے تھے۔ مگر مثال بذات خود دلیل نہیں۔ مثال پیش کرنے کی دوصورتیں ہیں۔ ایک وضاحت، دوسرے استدلال پہلی صورت علمی طور پر جائز ہے اور دوسری صورت علمی طور پر جائز نہیں۔ ایک بات جو دوسرے دلائل سے ثابت ہوچکی ہو اس کی مزید وضاحت کے لئے کوئی مثال پیش کرنا درست ہے۔ ایسی مثال اصل دعویٰ کی دلیل نہیں ہوتی وہ اصل دعویٰ کی صرف مزید تشریح ہوتی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک دعویٰ کیا جائے اور اس کی دلیل کے طور پر ایک مثال پیش کی جائے۔ مثال کے طور پر وحدت الوجود کا نظریہ۔ اس نظریہ کے پیش کرنے والے ہمیشہ مثالوں کے ذریعہ اس کو ثابت کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک عام مثال سمندر اور قطرہ کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سمندر سمندر ہے اور قطرہ قطرہ۔ مگر قطرہ بھی انتہائی چھوٹی سطح پر سمندر ہی کا ایک حصہ ہے۔ مگر یہ مثال وحدت الوجود کے نظریہ کو ثابت نہیں کرتی۔ یہ مثال صرف اس وقت اصل نظریہ کا ثبوت بنے گی جب کہ اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت کیا جائے کہ دونوں میں استدلالی ربط ہے۔ مثلاً کوئی ایسی آیت یا حدیث پیش کی جائے جس میں صراحتاً یہ بتا دیا گیا ہو کہ خالق اور مخلوق کے درمیان وحدت الوجود کا رشتہ ہے اور اس رشتہ کو نظریاتی طور پرت بل فہم بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سمندر اور قطرہ کی تمثیل دنیا میں قائم کردی ہے۔ تم سمندر اور قطرہ کو دیکھو اور اس سے وحدت الوجود کے مسئلہ کو سمجھ لو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page