ڈائری
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال ہمیشہ ایک علیحدہ چیز ہوتی ہے اس کو کسی بھی بات سے جوڑا جاسکتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ تمثیل استدلال کا سب سے کمزور طریقہ ہے: Analogy is the weakest from of argument. ۲ اپریل ۱۹۸۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بیویاں کیوں کیں، اس کی توجیہ کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : "اکمل البشر نے خود اپنی نسبت فرمایا کہ مجھ کو جسمانی قوت عطا ہوئی ہے وہ اہل جنت میں سے چالیس مردوں کے برابر ہے۔ جن میں سے ایک مرد کی قوت ایک سومرد کے برابر ہوگی۔ گویا دنیا کے چار ہزار مردوں کے برابر قوت حضور کو عطا فرمائی گئی تھی۔ اس حساب سے اگر چار ہزار بیویاں آپ کے نکاح میں ہوتیں تو آپ کی قوت کے اعتبار سے اسی درجہ میں شمار کیا جاسکتا تھا جیسے ایک مرد ایک عورت کے ساتھ نکاح کرے۔ لیکن اللہ اکبر اس شدید ریاضت اور سبط نفس کا کیا ٹھکانا کہ ۵۳ سال کی عمر اس زہد کی حالت میں گزاردی۔ دنیا کا سب سے بڑا بے مثال انسان جو اپنے فطری قومی کے لحاظ سے کم از کم چار ہزار بیویوں کا مستحق ہو، کیا نو کا عدد دیکھ کر کوئی انصاف پسند اس پر کثرت ازدواج کا الزام لگا سکتا ہے۔ صفحہ ۵۵۰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت کا یہ کتنا سطحی انداز ہے۔ یہ سطحی انداز کیوں پیدا ہوا۔ اس کی وجہ دعوتی ذہن کا ختم ہونا ہے۔ مسلمان اپنے جذبہ فکر کی تسکین کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں اس کی فکر نہیں ہوتی کہ دوسروں پر ان کی باتوں کا کیا اثر پڑے گا۔ دعوتی ذہن دوسروں کی رعایت کر کے بولتا ہے، اور فکریہ ذہن اپنے سوا کسی اور کی رعایت کرنا نہیں جانتا۔ ۳ اپریل ۱۹۸۳ کسی کا قول ہے : من ابصر عیب نفسه شغل عن عیب غیرہ (جو شخص اپنے عیب کو دیکھے وہ دوسرے کے عیب کو دیکھنے سے دور رہے گا)۔ دنیا کے اکثر جھگڑے صرف اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ دوسروں کے عیب کو دیکھنے میں لگے رہتے ہیں۔ اگر لوگوں میں اپنا عیب دیکھنے کا مزاج آجائے تو اکثر جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader