Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتی ہے۔ انسان کا معاملہ بھی ٹھیک یہی ہے۔ ہر انسان جسمانی سطح پر اسی قانون قدرت کے تحت عمل کرتا ہے۔ وہ اپنے اندر غذا اور سبزی داخل کرتا ہے اور اس کو گوشت اور خون میں کنورٹ کرتا ہے۔ کوئی آدمی اسی وقت زندہ رہتا ہے جب تک وہ اس صلاحیت کا ثبوت دے۔ جس دن وہ اپنے اندر سے اس صلاحیت کو کھو دے اسی دن اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ سماجی زندگی میں بھی آدمی کو اسی استعداد کا ثبوت دینا ہے۔ اس کو مشکلات میں آسانی کا راز دریافت کرنا ہے۔ اس کو اپنے ڈس ایڈوانٹج کو ایڈوانٹج میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کو اپنے نہیں کو ہاں بنانا ہے۔ یہی زندگی کا واحد راز ہے۔ جو لوگ ایسا نہ کرسکیں ان کے حصے میں بے فائدہ شکایت اور احتجاج کے سوا کچھ اور آنے والا نہیں۔ ۴ فروری ۱۹۸۳ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : استعينوا على قضاء حوائجكم بالكتمان فان كل ذي نعمة محسود رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں اخفا سے مدد لو۔ کیوں کہ ہر شخص جس کو نعمت ملے اس سے لوگ حسد کرنے لگتے ہیں۔ حسد اس دنیا کا سب سے زیادہ عام مرض ہے۔ حسد کو لوگوں کے اندر سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ لوگوں کے حسد سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اپنے کاموں میں حتی الامکان اخفا اور راز داری کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ۵ فروری ۱۹۸۳ حضرت عمر فاروق اپنی خلافت کے زمانہ میں حج کے لئے گئے ۔ انھوں نے حاکیوں کی کثرت کو دیکھ کر کہا: الوفد كثير والحج قليل ( لوگ بہت ہیں مگر حج کم ہے) حضرت عمر کو یہ بات اس زمانہ میں محسوس ہوئی جو کہ نبوت سے قریب کا زمانہ تھا۔ آج اگر حضرت عمر آئیں اور موجودہ حاجیوں کا حال دیکھیں تو ان کا تاثر کیا ہوگا۔ حضرت عمر کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اصل اہمیت کی چیز کیفیت ہے نہ کہ کمیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page