ڈائری
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
نیز یہ کہ اپنے عیب کو دیکھنا ہی آخر کار آدمی کے کام آتا ہے ۔ اس سے آدمی کی اصلاح ہوتی ہے اور دنیا و آخرت میں اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ دوسرے کے عیب میں مشغول رہنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ سے بے خبر ہو جائے ۔ وہ دوسروں کے پیچھے اپنے آپ کو کھو دے۔ ۴ اپریل ۱۹۸۳ قطر (رئاسة الشئون الدينية) سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے: الحرمان والتخلف فى ديار المسلمين (مسلم ممالک کا پچھڑا پن) اس کتاب میں مختلف اعتبار سے مسلم ملکوں کا تخلف دکھایا گیا ہے۔ اس میں ایک بات یہ کہی گئی ہے: تقول مصادر الامم المتحدة ان اكثر من نصف سكان بنجلاديش البالغ عددهم ۹۲ مليونا من البشر يعيشون دون مستوى الكفاف ۔ اقوام متحدہ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش جہاں ۹۲ ملین انسان بستے ہیں اس کی آدھی سے زیادہ آبادی ناگزیر ضروریات سے کم تر سطح پر زندگی گزار رہی ہے۔ موجودہ صدی کے نصف اول میں ہندوستان کے مسلم لیڈروں نے نعرہ لگایا کہ مسلمانوں کی بربادی کا سبب ہند و امتیاز ہے ، اس لئے ہم کو الگ ملک (پاکستان) چاہئے ۔ پاکستان بن گیا تو شیخ مجیب الرحمن جیسے لوگ اٹھے۔ انھوں نے کہا کہ سونار بنگلہ (سونے کے بنگلہ ملک) کو پاکستان نے کنگال بنا دیا ہے ، اس لئے ہم کو الگ کرو۔ اس کے بعد بنگلہ دیش الگ ملک بن گیا ۔ اب حال یہ ہے کہ بنگلہ دیش دنیا کا سب سے برباد ملک ہے۔ سونے کا بنگلہ مٹی کا بنگلہ بن گیا۔ مذکورہ کتاب کے مطابق مجموعی اعتبار سے مسلمان دنیا کی سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم ہیں اور ان کے پچھڑے پن کا مزید نقصان یہ ہے کہ عیسائی مشنریاں ان میں اپنے لئے کام کا میدان پارہی ہیں، انڈونیشیا بھی انہی پسماندہ مسلم ممالک میں سے ہے ۔ ۱۹۷۶ میں جمعیۃ الانجیل نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈونیشیا میں ۴۰۰ ہزار مسلم افراد عیسائی مذہب اختیار کر چکے ہیں۔ اصول برتنے کی دو قسمیں ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader