Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

١۔ اصول کے لئے اصول برتنا۔ ٢۔ مفاد کے لئے اصول برتنا۔ ظاہری طور پر دیکھنے میں دونوں یکساں ہیں۔ مگر ظاہری مشابہت کے سوا دونوں کے درمیان کوئی مشابہت نہیں۔ اصول کے لئے اصول برتنے والا ہی دراصل اصول پرست ہے۔ مفاد کے لئے اصول برتنے والا صرف مفاد پرست ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ با اصول زندگی قربانی کی زندگی ہے۔ جو شخص مفاد کے لئے اصول برتے وہ گویا اپنی قربانی کی قیمت اسی دنیا میں وصول کر لینا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اصول کے لئے اصول برتے کہ اگر اس کا محرک رضائے الہی ہو، تو وہی وہ شخص ہے جو اپنی قربانی کی قیمت میں آخرت پائے گا۔ ۷ اپریل ۱۹۸۴ فرانس میں ایک اصطلاح وضع ہوئی جس کو گگال ازم (Degaullism) کہا جاتا تھا۔ یہ اصطلاح فرانس کے سابق حکمران چارلس ڈیگال (۱۹۰- ۱۸۹۰ء) کے نام سے لی گئی ہے۔ ڈیگال کو فرانس میں اقتدار ملا تو فرانس یورپ کا ایک کمزور ملک بنا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ افریقہ میں اس کے مقبوضات میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔ اور فرانس کی تمام طاقت ان تحریکوں کو دبانے اور کچلے میں استعمال ہو رہی تھی۔ ڈیگال کی مثبت پالیسیوں (positive policies) کے لئے یہ صورتحال رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ فرانس نے اپنے (great power) ہونے کی حیثیت کھو دی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ افریقہ کے فرانسیسی مقبوضات کو آزاد کر دے۔ انس ایکلو پیڈیک کے الفاظ میں: He settled the problem of Algeria when no one else could (7/965) ڈیگال نے اس وقت الجیریا کے مسئلہ کو حل کر دیا جب کہ کوئی اس کو نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے نتیجے میں ڈیگال پر سخت تنقیدیں ہوئیں ۔ اس کے اوپر قاتلانہ حملے کئے گئے۔ اگلے الیکشن میں اس نے حکومت کھو دی۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے جنازہ میں چند رشتہ داروں کے سوا کوئی شامل نہ تھا۔ گگال ازم اپنی قیادت کی قیمت پر ملک و قوم کو زندگی دینا ہے۔ برٹانیکا کے الفاظ یہاں قابل نقل ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page