ڈائری
Urdu book, p. 252
By Maulana Wahiduddin Khan
Courage to take the necessary decisions with all ہر قسم کے سیاسی اور ذاتی خطرات کا اندیشہ مول لے کر ضروری فیصلے کرنے کا حوصلہ۔ ڈ یگال نے یہ حوصلہ دکھایا۔ اس نے اپنی قیادت کو ختم کر کے فرانس کو طاقت ور بنا دیا۔ ۷ اپریل ۱۹۸۲ کم کی موجودگی زیادہ کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اگر زیادہ نہ پایا جائے تو کم کا پایا جانا بھی ممکن نہیں۔ اگر دنیا میں صرف اتنا ہی پانی ہوتا جتنا پانی کسی بارش کے وقت اوپر سے برستا ہے تو زمین پر کبھی بارش نہ ہو سکے۔ تھوڑا پانی اس وقت برستا ہے جب کہ یہاں زیادہ پانی موجود ہو، بارش کے بققدر پانی برسنے کے لئے سمندر کے بققدر پانی کا ذخیرہ ہونا ضروری ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ روشن سورج کو ظہور میں لانے کے لئے ایک روشن تر نور کا ل کام کا وجود ضروری ہے۔ پھول کی تخلیق اس وقت ممکن ہے جب کہ یہاں پھول سے زیادہ لطیف اور حسین ہستی موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ محدود دنیا کی موجودگی لا محدود خالق کی موجودگی کا کھلا، ہوا ثبوت ہے۔ کائنات خود خدا نہیں ہو سکتی۔ کائنات کا خالق وہی ہو سکتا ہے جو کائنات سے زیادہ عظیم ہو۔ ۸ اپریل ۱۹۸۲ سورہ نساء کی آیت نمبر ۴۱ میں ہے : پس اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر ایک امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تم کو ان لوگوں کے اوپر گواہ بنائیں گے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس آیت پر پہنچتے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے (کان النبي صلی الله عليه وسلم اذا التی علیها فاضت عيناه) اس آیت کی تشریح میں مولانا عبد الماجد دریابادی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : جن بے دردوں نے قرآن کو کلام محمدی ٹھہرایا، وہ غور کریں کہ کہیں اپنے گنگے ہوئے کلام سے بھی انسان کے آنسو جاری ہوتے ہیں (تفسیر ماجدی، جلد دوم، صفحہ ۲) یہ ایک صحیح مقدمہ کی غلط وکالت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ مگر مذکورہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader