ڈائری
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
دلیل خالص علمی اعتبار سے اس کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں۔ آنسو نکلنے کا تعلق اصلاً قلب سے ہے نہ کہ کلام سے۔ کوئی کلام خواہ وہ اپنا ہو یا دوسرے کا، جب آدمی کو لطیف حقائق سے جوڑتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ آنسو حقیقتاً اس معرفت کا نتیجہ ہے جس کا تجربہ مختلف صورتوں میں آدمی کے اوپر گزرتا ہے۔ یہ تجربہ خود اپنے کلام سے بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے کے کلام سے بھی۔ میرے اوپر بار بار یہ تجربہ گزر رہا ہے کہ میں نے اپنی تحریر پڑھی اور میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔ ۹ اپریل ۱۹۸۲ پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی (۱۹۴۷) سے پہلے اپنی آٹو بیو گرافی لکھی۔ اس کا خاتمہ انھوں نے ان الفاظ پر کیا تھا کہ مستقبل میں کیا ہوگا کچھ نہیں معلوم، کتاب زندگی کے اگلے ورق سر بہ مہر ہیں۔ اس کے بعد ہندوستان آزاد ہوا اور جواہر لعل نہرو کو ملک کا اقتدار حاصل ہو گیا مگر سابقہ صورت حال بدستور باقی رہی۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۶۰ کو مدراسی ایجوکیشن ایسوسی ایشن اسکول کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے نہرو نے ملک کے سیاسی اور معاشی مسائل کا ذکر کیا۔ ٹائلس آف انڈیا (۱۲ دسمبر ۱۹۶۰) کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ہمارے خوابوں کی دنیا جو ابھی قریب نہیں آئی ہے، مگر وہ اگر رہے گی، One world of our dream, which is still perhaps not nearer, must come. ۲۷ مئی ۱۹۶۴ کو نہرو کا انتقال وزارت عظمیٰ کی کرسی پر ہوا۔ تاہم اپنے خوابوں کی دنیا سے اب بھی وہ اتنا ہی دور تھے جتنا کہ وہ آزادی اور اقتدار اپنانے سے پہلے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے نہ کہ اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کی جگہ۔ بیشتر انسان اپنی ساری زندگی مایوسی کا شکار رہتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ ۱۰ اپریل ۱۹۸۳ سورہ نساء آیت نمبر ۴۹ میں ارشاد ہوا ہے کہ اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا انعام کیا۔ نبی اور صدیق اور شہید اور صالحین ۔ اس آیت کی تشریح میں ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader