Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 254

By Maulana Wahiduddin Khan

"اس اطاعت کا تعلق فرائض و واجبات سے ہے وردا گر فرائض و واجبات کے علاوہ مستحبات، نوافل تظومات کا بھی اسی قدر اہتمام ہو جائے تو پھر درجہ ولایت خود ہی حاصل ہو جائے گا" (جلد دوم صفحه ۸۰) مفسر کی زبان سے یہ جملہ تصوف کے زیر اثر نکلا ہے جس نے ظواہر اعمال کو حقیقت اعمال کا بدل بنا دیا۔ یہ صحیح نہیں کہ کوئی شخص ان ظاہری اعمال کا اہتمام کرے جس کو عام طور پر مستحبات و نوافل کہا جاتا ہے تو وہ خود بخود ولی ہو جائے گا۔ ولایت در اصل معرفت کا ایک درجہ ہے ۔ وہ کسی آدمی کو شعوری سفر کے بعد حاصل ہوتا ہے مستحبات ونوافل کا کوئی کورس ایسا نہیں جس کو پورا کر کے آدمی خود بخود ولی بن جائے۔ ۱۱ اپریل ۱۹۸۲ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶ وضو کے بارے میں ہے۔ ابن العربی نے لکھا ہے کہ بعض علمائے نے کہا ہے کہ اس آیت کے اندر ایک ہزار مسئلے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ کچھ فقہا مدینہ اسلام میں جمع ہوتے اور اس کا تتبع کیا تو وہ آٹھ سو مسائل تک پہنچے۔ مگر وہ ایک ہزار مسائل معلوم نہ کر سکے ۔ (وقت قال بعض العلماء ان فيها الف مسئلة واجتمع اصحابنا بمدينة السلام فتتبعوها فبلغوها ثامان مأمة مسئلة ولم يقدروا ان يبلغوها الالـف) یہ بات میں نے ایک جدید تعلیم یافتہ آدمی کو سنائی تو اس نے ہنس کر کہا: "جب وضو اتنی پیچیدہ چیز ہے تو نماز کتنی پیچیدہ چیز ہوگی ؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی آیت سے آٹھ سو اور ایک ہزار مسائل نکالنا یہودیت ہے ، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام " حنیفیت سہہ" کا نام ہے نہ کہ مسائل ظاہری کی کثرت کا۔ ۱۲ اپریل ۱۹۸۳ حق کے داعی کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ۔ یہ تمام کاموں میں سب سے زیادہ مشکل کام ہے یہ دنیا میں خدا کی نمائندگی ہے۔ یہ روح کا اپنے آپ کو خدا کے حوالے کرنا ہے۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کا گواہ بننا ہے۔ ٹیگور نے کہا ہے کہ ساری عمر ماروں کو ٹھیک کرنے میں بیت گئی۔ جو انتم گیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page